کابل، 12 اکتوبر 2025 – اتوار کو کابل میں منعقدہ پریس کانفرنس میں افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا کہ پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر "انتقامی کارروائی” کے دوران پاکستان کے 58 سکیورٹی اہلکار ہلاک اور 30 زخمی ہوئے۔ یہ کارروائی مبینہ طور پر پاکستان کی جانب سے کابل اور پکتیکا میں کیے جانے والے فضائی حملوں کے جواب میں کی گئی، جنہیں طالبان نے افغان خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا۔ مجاہد نے مزید بتایا کہ 20 پاکستانی سرحدی چوکیوں پر عارضی قبضہ کر لیا گیا، جو لڑائی ختم ہونے کے بعد واپس کر دی گئیں۔ جھڑپوں میں افغان طالبان کے 9 جنگجو ہلاک اور 16 زخمی ہوئے۔
پاکستان کی فوج کی جانب سے تاحال ان دعووں پر کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم، پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے افغان حملوں کو "غیر اشتعال انگیز” قرار دیتے ہوئے ان کی مذمت کی اور کہا کہ یہ شہری آبادی پر فائرنگ سمیت بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ ایک پاکستانی سیکیورٹی ذریعہ نے بی بی سی کو بتایا کہ سرحد کے کئی مقامات پر فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جن میں انگور اڈہ، باجوڑ، کرم، دیر، چترال اور برامچہ شامل ہیں۔
پس منظر
یہ جھڑپیں درند لائن پر 2024 سے جاری بڑھتے ہوئے تنازعات کا حصہ ہیں، جہاں دونوں ممالک کی فورسز کے درمیان بار بار سرحدی حملے اور فائرنگ ہوتی رہی ہے۔ پاکستان کا الزام ہے کہ افغان طالبان تحریک طالبان پاکستان (TTP) کو پناہ دے رہے ہیں، جس نے 11 اکتوبر کو خیبر پختونخوا میں الگ حملوں میں 20 سے زائد پاکستانی سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا۔ دوسری جانب، طالبان پاکستان پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ افغان سرزمین کو نشانہ بنا رہا ہے، بشمول 8 سے 10 اکتوبر کو کابل اور پکتیکا میں TTP رہنماؤں کو نشانہ بنانے والے مبینہ فضائی حملے۔
پیشرفتیں
- 11 اکتوبر: افغان طالبان نے پاکستانی چوکیوں پر حملے کیے اور پاکستان کے فضائی حملوں کے جواب میں تین چوکیوں پر قبضے کا دعویٰ کیا۔
- 12 اکتوبر: رات بھر بھاری جھڑپوں کے نتیجے میں پاکستان نے چار سرحدی گزرگاہیں، جن میں تورخم اور چمن شامل ہیں، بند کر دیں، جس سے تجارت اور نقل و حمل متاثر ہوا۔
- افغان وزارت دفاع: قائم مقام وزیر دفاع ملا محمد یعقوب مجاہد نے خبردار کیا کہ افغانستان اپنی سرحدوں کا دفاع کرنے کے لیے تیار ہے۔
علاقائی اثرات
جاری جھڑپیں علاقائی استحکام کو مزید خطرے میں ڈال سکتی ہیں، جہاں دونوں اطراف سے بڑھتی ہوئی ہلاکتوں کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ سرحدی گزرگاہوں کی بندش نے سرحدی تجارت کو پہلے ہی متاثر کر دیا ہے۔ سفارتی کوششیں رکاوٹ کا شکار ہیں، پاکستان TTP کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہا ہے جبکہ افغانستان دہشت گردوں کو پناہ دینے کے الزامات کو مسترد کر رہا ہے۔
مزید خبریں:
ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف
الاستاذ المودودی _ و شيئ من حياته و افكاره پر معروف قلمکار غلام نبی کشافی کا تبصرہ
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی
کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں