ضلع انتظامیہ اور پولیس کی ٹیموں نے وادی کے مختلف اضلاع میں قائم فلاح عام ٹرسٹ کے اسکولوں کا دورہ کیا اور ان کا انتظام اپنی تحویل میں لے لیا۔ حکومت کی اس کارروائی کے دوران مذکورہ اسکولوں کا انتظامی کام سنبھالنے کے لئے متعلقہ قریبی ہائر سیکنڈری اسکولوں کے پرنسپل بھی انتظامیہ کی ٹیموں کے ساتھ رہے۔ یہ عمل اسکول ایجوکیشن کی جانب سے جماعت اسلامی کشمیر اور اس کی زیلی ونگ "فلاح عام ٹرسٹ” سے منسلک اسکولوں کی نگرانی میں لینے کے حکم نامے کے بعد شروع کیا گیا ہے۔ قریبی ہائر سکینڈری اسکولوں کے پرنسپل کو مذکورہ اسکولوں کے انچارج کے طور پر ان کی دیکھ ریکھ کے اس فیصلے سے متعلق جموں وکشمیر کی مختلف سیاسی اور سماجی جماعتوں کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔
جموں و کشمیر بی جی پی یونٹ کے ترجمان الطاف ٹھاکر نے حکومت کے 215 اسکولوں کا کنٹرول سنبھالنے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا جو پہلے جماعت اسلامی اور فلاح عام ٹرسٹ کے ذریعے چلائے جا رہے تھے۔ انہوں نے اس قدم کو "انتہائی ضروری اور اہم قرار” دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نوجوانوں میں علیحدگی پسند سوچ پیدا کرنے سے بچا جا سکتا ہے۔ الطاف ٹھاکر نے الزام عائد کیا کہ اس فیصلے کو عملی جامہ پہنانے میں وزیر تعلیم نے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے سوالیہ انداز میں کہا کہ ’’کیا اس سے وہ جماعت اسلامی کشمیر کو ناراض نہیں کرنا چاہتی یا اس کے پیچھے کوئی اور وجہ یا راز کار فرما ہے۔
ادھر پی ڈی پی کے رکن اسمبلی اور ایم ایل اے پلوامہ وحید الرحمن پرہ نے سماجی رابطہ گاہ ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ جموں و کشمیر میں 1987ء اور 2024ء کے انتخابات کے بعد پہلے جامع اور شرکت پر مبنی انتخابات منعقد ہوئے تھے جس میں معاشرے کے تمام طبقے شریک تھے۔ تاہم کتابوں پر پابندی اور اسکولوں پر قبضے جیسی حالیہ حرکتیں سوچی سمجھی حکمت عملیوں کے بجائے گھٹنے ٹیکنے والے ردعمل دکھائی دیتے ہیں۔ وحید الرحمن پرہ کے مطابق یہ کارروائیاں جماعت اسلامی سے منسلک افراد کو دباتی ہیں اور ان لوگوں کے لئے دروازے بند کر دیتی ہیں جو گزشتہ دو دہائیوں کے ہنگاموں سے باہر نکلنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت سرکار کو لازمی طور پر ایک اسپیس فراہم کرنی چاہیئے، آئینی ضمانتوں کو برقرار رکھنا چاہیئے اور جموں و کشمیر میں جمہوری عمل کو فروغ دینا چاہیئے جو اس خطے میں ابھی تک مکمل طور پر آزمایا جانے والا واحد ہتھیار ہے۔
پیپلز کانفرنس کے چیئرمین نے بھی اس فیصلے پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر حکومت نے 215 اسکولوں پر زبردستی قبضہ کر لیا، منتخب حکومت نے (اس حوالے سے) حکم جاری کر دیا ہے۔ سجاد لون کے مطابق یہ بے شرمی ہے اور بے شرمی نے اس حکومت میں نئے معنی لے لئے ہیں، وہ خدمت خلق میں نئے معیارات قائم کر رہے ہیں اور صرف ان بیانات کو یاد کرنے کے لئے جو اس جماعت نے اپنے مخالفین کے خلاف صادر کئے تھے۔ سجاد لون نے این سی حکوم تکی تنقید کرتے ہوئے لکھا: کہ کسی وہم میں نہ رہیں، منتخب حکومت تمام کارروائیوں میں برابر کی فریق ہے، یہ میلنگ (Mailing) ہو یا ملازمین کی برطرفی وہ برابر کے شراکت دار ہیں۔ وہ ماضی میں برابر کے شرکت دار رہے ہیں اور مستقبل میں برابر کے شریک ہوں گے۔ یہ اے ٹیم ہے اور ہمیشہ اے ٹیم ہی تھی۔
مزید خبریں:
انجینئر محمد علی مرزا مفتن یامحقق ؟
مفکرِ اسلام مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ حیات و خدمات
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی
کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں