11 اکتوبر 2025 کو، افغانستان کی طالبان کی زیرقیادت حکومت کے قائم مقام وزیر خارجہ، مولوی امیر خان متقی نے بھارت کے صوبہ اتر پردیش کے شہر سہارنپور میں واقع مشہور اسلامی مدرسہ دارالعلوم دیوبند کا دورہ کیا۔ یہ دورہ ان کے چھ روزہ سرکاری دورہ بھارت (9 سے 16 اکتوبر) کا حصہ تھا، جو 2021 میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے کسی سینئر طالبان عہدیدار کا بھارت کا پہلا اعلیٰ سطحی دورہ تھا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طالبان پابندیوں کی کمیٹی کی جانب سے عارضی استثنٰی کے ذریعے متقی پر عائد سفری پابندی ہٹائی گئی، جس نے اس سفارتی دورے کو ممکن بنایا۔
پس منظر اور تناظر
امیر خان متقی 9 اکتوبر 2025 کو نئی دہلی پہنچے اور 10 اکتوبر کو بھارت کے وزیر خارجہ امور ایس جے شنکر کے ساتھ اعلیٰ سطحی مذاکرات کیے۔ ان مذاکرات میں سیکیورٹی، تجارت، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور خطے کی استحکام جیسے اہم موضوعات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ بھارت نے زور دیا کہ افغانستان کی سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے، جس پر متقی نے جواب دیا کہ طالبان کی حکومت بین الاقوامی دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین پر پناہ دینے کی اجازت نہیں دے گی۔ میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے طالبان کے ایک "مضبوط اسلامی امارات” کے وژن پر زور دیا جو بیرونی خطرات سے پاک ہو۔
دارالعلوم دیوبند کا دورہ، جو 11 اکتوبر کو تقریباً چار گھنٹوں کے لیے طے کیا گیا تھا، افغانستان اور دیوبندی تحریک کے درمیان گہرے تاریخی اور نظریاتی رابطوں کی عکاسی کرتا ہے۔ 1866 میں قائم ہونے والا یہ مدرسہ جنوبی ایشیا کے سب سے باوقار اسلامی اداروں میں سے ایک ہے، جو دیوبندی مکتبہ فکر کی تشکیل کے لیے جانا جاتا ہے۔ یہ تحریک اسلامی اصلاحات، حنفی فقہ کی سختی سے پابندی اور استعمار کے خلاف مزاحمت پر زور دیتی ہے، اور اس نے افغانستان کے مذہبی منظرنامے کو گہرائی سے متاثر کیا ہے۔ طالبان کے بہت سے رہنما، نیز پاکستان کے دارالعلوم حقانیہ جیسے مدرسوں سے وابستہ شخصیات، اپنی علمی جڑیں دیوبند کی تعلیمات سے جوڑتی ہیں۔ اس ادارے کو اکثر دیوبندی تحریک کا "روحانی مرکز” (روحانی مرکز) کہا جاتا ہے، جس کی وجہ سے متقی کا یہ دورہ علامتی اور سفارتی طور پر اہم تھا۔
متقی نے اس دورے کو "تاریخی رابطوں کو بحال کرنے اور مضبوط کرنے” کی کوشش قرار دیا، اور طالبان کو پاکستان کے دیوبندی نیٹ ورکس سے الگ کرتے ہوئے نظریاتی آزادی پر زور دیا۔ اس دورے کو "مذہبی سفارت کاری” کے طور پر بیان کیا گیا، جو طالبان کی خود کو ایک عالمانہ روایت کے وارث کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کو اجاگر کرتا ہے، نہ کہ صرف ایک عسکری گروہ کے طور پر۔
دورے کی تفصیلات
آمد اور استقبال
امیر خان متقی 11 اکتوبر 2025 کو صبح تقریباً 11:00 بجے (بھارتی معیاری وقت) دارالعلوم دیوبند پہنچے۔ ان کا پرتپاک استقبال مدرسہ کے رہنماؤں نے کیا، جن میں مہتمم (چانسلر) مفتی ابوالقاسم نعمانی اور جمیعت علمائے ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی شامل تھے۔ استقبال میں گرمجوشی اور دوستی کا ماحول تھا، جو افغانستان اور اس ادارے کے درمیان طویل عرصے سے جاری تعلیمی اور علمی رابطوں کی عکاسی کرتا تھا۔ مولانا ارشد مدنی نے دیوبند کو طالبان کا "مادر علمی” قرار دیا، جو اس کے افغان اسلامی اسکالرشپ کی تشکیل میں کردار کی نشاندہی کرتا ہے۔
طلبہ اور اساتذہ سے ملاقاتیں
اپنے دورے کے دوران، متقی نے دورہ حدیث پروگرام میں داخلہ لینے والے تقریباً 12 افغان طلبہ سے ملاقات کی، جو حدیث کے اعلیٰ درجے کا ایک سالہ کورس ہے۔ یہ طلبہ 19ویں صدی سے جاری اس روایت کی نمائندگی کرتے ہیں جس کے تحت افغان علماء دیوبند میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ متقی کی ملاقاتیں خوشگوار تھیں، اور انہوں نے اسلامی تعلیم کی اہمیت اور دیوبند کے علمی تبادلے کو فروغ دینے میں کردار پر تبادلہ خیال کیا۔
انہوں نے مدرسہ کی تاریخی لائبریری کا بھی دورہ کیا، جو جنوبی ایشیا میں اسلامی مخطوطات کا سب سے بڑا ذخیرہ ہے، جہاں فقہ، حدیث اور الہیات پر نایاب متون موجود ہیں۔ اس لائبریری کا دورہ طالبان کے علمی شہرت کو دیوبند کے فکری ورثے سے جوڑنے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
عوامی خطاب
شام 3:00 بجے (بھارتی معیاری وقت)، متقی نے طلبہ، اساتذہ اور مقامی کمیونٹی کے ارکان کے سامنے ایک عوامی خطاب کیا۔ اپنی تقریر میں انہوں نے پرتپاک مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا اور افغانستان اور دارالعلوم دیوبند کے مشترکہ تاریخی رابطوں پر زور دیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ دیوبند میں افغان طلبہ کی تعداد میں اضافہ ہوگا، جو تعلیمی رابطوں کو مضبوط کرنے کی خواہش کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ خطاب بہت سراہا گیا، اور حاضرین نے متقی کے اتحاد اور باہمی احترام پر زور کو نوٹ کیا۔
سیکیورٹی انتظامات
دورے کی حساسیت کے پیش نظر، وسیع پیمانے پر سیکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے۔ مقامی پولیس نے انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ساتھ مل کر مدرسہ کے اردگرد جامع سیکیورٹی فراہم کی۔ سیکیورٹی اہلکاروں کی موجودگی نے اس دورے کو بغیر کسی واقعے کے کامیابی سے مکمل کیا، جو بھارت کے ایک طالبان عہدیدار کی میزبانی کے لیے محتاط انداز کی عکاسی کرتا ہے۔
دورے کی اہمیت
تاریخی اور نظریاتی رابطے
دارالعلوم دیوبند کا دورہ اس لیے اہم ہے کہ اس ادارے نے افغانستان پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ اپنے قیام کے بعد سے، دیوبند اسلامی اسکالرشپ کا ایک مینارہ رہا ہے، جو پوری مسلم دنیا سے طلبہ کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے، جن میں افغان بھی شامل ہیں۔ 19ویں اور 20ویں صدی میں دیوبند میں تعلیم حاصل کرنے والے افغان علماء نے دیوبندی خیالات کو واپس اپنے ملک پھیلانے میں کلیدی کردار ادا کیا، جو بعد میں طالبان کے نظریاتی ڈھانچے کو متاثر کرتا رہا۔ دیوبند کا دورہ کر کے، متقی نے ان رابطوں کو دوبارہ مضبوط کرنے کی کوشش کی، اور طالبان کو ایک عالمانہ روایت کے وارث کے طور پر پیش کیا، نہ کہ صرف ایک عسکری گروہ کے طور پر۔
یہ دورہ طالبان کی افغان شناخت کو پاکستان کے دیوبندی نیٹ ورکس، خاص طور پر دارالعلوم حقانیہ جیسے مدرسوں سے الگ کرنے کی کوشش بھی تھا، جنہیں اکثر "طالبان کا یونیورسٹی” کہا جاتا ہے۔ دیوبند سے براہ راست رابطہ کر کے، طالبان نے پاکستانی اثر سے آزاد اپنی فکری وراثت کو دوبارہ حاصل کرنے کی خواہش کا اشارہ دیا۔
سفارتی اثرات
یہ دورہ بھارت-افغانستان تعلقات میں ایک سنگ میل ہے، جو 2021 کے طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے محتاط لیکن حقیقت پسندانہ رہا ہے۔ بھارت نے افغانستان کو انسانی امداد فراہم کی ہے، جس میں خوراک، ادویات اور تعلیمی امداد شامل ہے، لیکن اس نے طالبان کی حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا۔ دیوبند کا دورہ بھارت کو "مذہبی رابطوں” کا موقع فراہم کرتا ہے، جو طالبان کی پالیسیوں، خاص طور پر خواتین کے حقوق اور گورننس کی شمولیت جیسے متنازع مسائل پر اثر انداز ہونے کا ایک نرم طاقت کا طریقہ ہے۔
تاہم، اس دورے نے بھارت میں بحث کو جنم دیا ہے۔ حامی اسے خطے کے مفادات، خاص طور پر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھارت کے مفادات کو محفوظ کرنے کے لیے ایک حقیقت پسندانہ اقدام سمجھتے ہیں۔ ناقدین کا استدلال ہے کہ ایک طالبان عہدیدار کی میزبانی سے ایک ایسی حکومت کو جائز بنانے کا خطرہ ہے جس کا انسانی حقوق، خاص طور پر خواتین کی تعلیم اور روزگار پر پابندیوں کا ریکارڈ متنازع ہے۔
علاقائی اور عالمی تناظر
یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب طالبان پر اپنی پالیسیوں کو معتدل کرنے کے لیے عالمی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ بھارت، چین اور روس جیسے ممالک نے خطے کے استحکام اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے اسٹریٹجک مفادات کی وجہ سے طالبان کے ساتھ مختلف درجوں میں رابطہ کیا ہے۔ دیوبند کا دورہ، نئی دہلی میں ہونے والی ملاقاتوں کے ساتھ، طالبان کی عالمی سطح پر جائزیت حاصل کرنے کی کوششوں کی عکاسی کرتا ہے جبکہ وہ اپنی اسلامی شناخت کو برقرار رکھتے ہیں۔
دیوبند کے بعد کا شیڈول
دیوبند کے دورے کے بعد، متقی کا شیڈول شامل تھا کہ وہ 12 اکتوبر 2025 کو آگرہ میں تاج محل کا دورہ کریں، جو بھارت کے ثقافتی ورثے کی نمائش کرتا ہے۔ 13 اکتوبر کو، انہوں نے فیڈریشن آف انڈین چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FICCI) کے ذریعے بھارتی کاروباری رہنماؤں کے ساتھ تجارت کے مواقع تلاش کرنے کے لیے ملاقات کی۔ اضافی سرگرمیوں میں وویکانند انٹرنیشنل فاؤنڈیشن جیسے تھنک ٹینکس میں خطاب اور بھارت میں مقیم افغان تارکین وطن کمیونٹیز کے ساتھ ملاقاتیں شامل تھیں، جو ان کے دورے کی کثیر جہتی نوعیت کو اجاگر کرتی ہیں۔
عوامی اور میڈیا کے ردعمل
ایکس پر حالیہ پوسٹس میں دارالعلوم دیوبند میں متقی کی آمد کی براہ راست فوٹیج دکھائی گئی، جن میں پرتپاک استقبال اور ان کے خطاب کے اقتباسات شامل ہیں۔ بھارتی میڈیا نے ملے جلے ردعمل کی اطلاع دی، کچھ نے اس دورے کو ایک جرات مندانہ سفارتی اقدام کے طور پر سراہا جبکہ دوسروں نے اس کے مضمرات پر سوال اٹھایا۔ افغان تارکین وطن نے محتاط امید کا اظہار کیا، یہ امید کرتے ہوئے کہ یہ دورہ تعلیمی تبادلے کو فروغ دے گا اور دوطرفہ تعلقات کو بہتر بنائے گا۔
نتیجہ
مولوی امیر خان متقی کا 11 اکتوبر 2025 کو دارالعلوم دیوبند کا دورہ ایک تاریخی واقعہ تھا، جس نے مذہبی سفارت کاری کو اسٹریٹجک رابطوں کے ساتھ ملایا۔ دیوبندی تحریک کے فکری گہوارے سے دوبارہ رابطہ کر کے، طالبان نے اپنی علمی جائزیت کو مضبوط کرنے کی کوشش کی جبکہ بھارت کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنایا۔ بھارت کے لیے، یہ دورہ افغانستان کی قیادت کے ساتھ مشترکہ تاریخ اور نظریات کے ایک منفرد لینس کے ذریعے رابطہ کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ جب طالبان عالمی تنہائی سے گزر رہے ہیں اور بھارت حقیقت پسندانہ سفارت کاری کو گھریلو خدشات کے ساتھ متوازن کر رہا ہے، دیوبند کا دورہ مستقبل کے دوطرفہ تعلقات کو تشکیل دینے میں ایک اہم لمحہ رہے گا۔
مزید خبریں:
ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف
الاستاذ المودودی _ و شيئ من حياته و افكاره پر معروف قلمکار غلام نبی کشافی کا تبصرہ
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی
کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں