ایران کی قدس فورس کے کمانڈر اسماعیل قاآنی کو جاسوسی کے الزام میں پھانسی کی حقیقت ؟
حالیہ دنوں میں مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سوشل میڈیا پر ایک نئی خبر تیزی سے گردش کر رہی ہے جس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایران کی قدس فورس کے کمانڈر اسماعیل قاآنی کو مبینہ طور پر اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے لیے جاسوسی کے الزام میں پھانسی دے دی گئی ہے۔ تاہم اب تک ایران کی حکومت، ایرانی فوج، یا کسی معتبر عالمی خبر رساں ادارے کی طرف سے اس خبر کی کوئی تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔ اس لیے یہ دعوے فی الحال محض افواہیں اور غیر مصدقہ اطلاعات سمجھے جا رہے ہیں۔
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے نئی اپ ڈیٹ ملے
سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیلتی افواہیں
6 مارچ 2026 تک مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز خصوصاً ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اور فیس بک پر متعدد پوسٹس میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ ایرانی اسلامک ریوولیوشنری گارڈ کور (IRGC) نے اسماعیل قاآنی کو موساد کے لیے جاسوسی کے شبہ میں گرفتار کر کے پھانسی دے دی ہے۔
ان پوسٹس میں کہا جا رہا ہے کہ قاآنی بار بار اسرائیلی اور امریکی حملوں سے بچ نکلتے رہے، جبکہ حالیہ حملوں میں ایران کے کئی اہم رہنما مارے گئے۔ بعض پوسٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ وہ اس حملے سے کچھ دیر پہلے وہاں سے نکل گئے تھے جس میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ہلاک ہوئے۔
اسی وجہ سے کچھ حلقوں میں یہ شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ شاید انہیں حملے کی پیشگی اطلاع تھی، اور اسی بنیاد پر انہیں جاسوسی کے الزام میں سزا دی گئی۔ تاہم ان تمام دعوؤں کے ساتھ کوئی مستند ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔
سرکاری یا معتبر ذرائع کی خاموشی
ان افواہوں کے برعکس ایران کے سرکاری میڈیا اداروں جیسے IRNA اور پریس ٹی وی میں اسماعیل قاآنی کی گرفتاری، تفتیش یا پھانسی کے بارے میں کوئی خبر شائع نہیں ہوئی۔
اسی طرح ایران کی اسلامک ریوولیوشنری گارڈ کور (IRGC)، ایرانی عدلیہ یا قدس فورس کی جانب سے بھی اس حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔
بین الاقوامی میڈیا اداروں جیسے Jerusalem Post، Haaretz اور دیگر تجزیاتی پلیٹ فارمز نے بھی ان خبروں کو غیر مصدقہ قرار دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ اس وقت تک ایسی کسی کارروائی کا کوئی قابلِ اعتماد ثبوت موجود نہیں۔
ماضی میں بھی پھیل چکی ہیں ایسی خبریں
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب اسماعیل قاآنی کے بارے میں اس قسم کی افواہیں سامنے آئی ہوں۔ گزشتہ چند برسوں میں بھی کئی بار انہیں اسرائیلی حملوں میں ہلاک یا گرفتار ہونے کی خبریں گردش کرتی رہی ہیں، لیکن بعد میں وہ مختلف مواقع پر منظرِ عام پر آ گئے اور یہ دعوے غلط ثابت ہوئے۔
قاآنی کو عام طور پر ایک کم پروفائل کمانڈر سمجھا جاتا ہے جو میڈیا میں کم نظر آتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کے بارے میں قیاس آرائیاں آسانی سے پھیل جاتی ہیں۔
افواہوں کے پھیلنے کی وجہ
ماہرین کے مطابق حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد ایران کو شدید سیاسی اور عسکری دباؤ کا سامنا ہے۔ ایران کی اعلیٰ قیادت میں ہونے والی ہلاکتوں اور جنگی صورتحال نے ملک کے اندر غیر یقینی فضا پیدا کر دی ہے۔
ایسی صورتحال میں سوشل میڈیا پر سازشی نظریات اور غیر مصدقہ خبریں تیزی سے پھیل جاتی ہیں، جنہیں بعض اوقات عوام سچ سمجھ لیتے ہیں۔
حقیقت کیا ہے؟
فی الحال حقیقت یہ ہے کہ اسماعیل قاآنی کی پھانسی کے بارے میں کوئی سرکاری اعلان یا معتبر تصدیق موجود نہیں۔ جب تک ایران کی حکومت یا قابل اعتماد عالمی ذرائع اس حوالے سے کوئی واضح بیان جاری نہیں کرتے، تب تک ان خبروں کو افواہ ہی سمجھا جائے گا۔
اگر تہران کی جانب سے کوئی سرکاری اعلان یا تردید سامنے آتی ہے تو صورتحال فوری طور پر واضح ہو سکتی ہے۔ فی الحال ماہرین عوام اور میڈیا کو مشورہ دے رہے ہیں کہ غیر مصدقہ خبروں کو پھیلانے سے گریز کیا جائے اور صرف مستند ذرائع پر ہی اعتماد کیا جائے۔
مزید خبریں:
ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف
امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی