آیت اللہ علی خامنہ ای

ایرانی سرکاری میڈیا کی جانب سے تصدیق: امریکی اور اسرائیلی حملوں میں آیت اللہ علی خامنہ ای جاں بحق

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای (عمر 86 سال) کو امریکی اور اسرائیلی مشترکہ فضائی حملوں میں شہید کر دیا گیا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا، بشمول ایران کی ریاستی ٹیلی ویژن (IRIB)، سرکاری خبر رساں ایجنسی IRNA، فارس نیوز اور دیگر سرکاری ذرائع نے آج صبح (اتوار کو) اس کی تصدیق کر دی ہے۔

ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے نئی اپ ڈیٹ ملے

ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے اعلان میں ایک اینکر نے روتے ہوئے کہا کہ "گرینڈ آیت اللہ سید علی خامنہ ای، اسلامی انقلاب کے سپریم لیڈر، مجرمانہ امریکہ اور صہیونی رژیم کے مشترکہ حملے میں شہید ہوگئے”۔ اعلان میں بتایا گیا کہ آیت اللہ خامنہ ای تہران میں اپنے دفتر/کمپاؤنڈ میں موجود تھے جب ابتدائی حملوں کی لہر میں انہیں نشانہ بنایا گیا۔ ان کے ساتھ متعدد خاندانی افراد (بشمول بیٹی، پوتا، بہو اور داماد) بھی شہید ہوئے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلے ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا تھا کہ "خامنہ ای، تاریخ کے سب سے شیطانی لوگوں میں سے ایک، مر چکا ہے”، اور انہوں نے اس آپریشن کو "رجیم چینج” کا حصہ قرار دیا۔ اسرائیلی ذرائع نے بھی تصدیق کی کہ "آپریشن روئنگ لائن” یا "ایپک فیوری” کے تحت پہلے حملے میں آیت اللہ خامنہ ای سمیت 30 سے زائد سینئر ایرانی افسران کو نشانہ بنایا گیا۔

ایران کا ردعمل اور علاقائی صورتحال

ایران نے فوری طور پر جواباً اسرائیل اور علاقے میں امریکی فوجی اڈوں (بحرین، کویت، قطر، اردن، متحدہ عرب امارات اور عراق) پر میزائل اور ڈرون حملوں کی متعدد لہریں شروع کر دی ہیں۔ ایرانی فوج نے "سب سے تباہ کن” جواب کا وعدہ کیا ہے۔ تہران اور دیگر شہروں میں نئی لہریں جاری ہیں، جبکہ اسرائیل میں ایئر ریڈ الرٹس بج رہے ہیں۔

ایران نے آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر 40 دن کا قومی غم کا اعلان کر دیا ہے۔ ملک بھر میں جلوس نکالے جا رہے ہیں، جہاں عوام "انتقام” کے نعرے لگا رہے ہیں۔

ایران میں ردعمل

ایرانی سرکاری میڈیا اور حامیوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر ماتم کے جلوس ہیں، جبکہ کچھ علاقوں میں (خاص طور پر مخالفین میں) جشن کی اطلاعات بھی ہیں، جہاں مجسمے گرانے اور خوشی کے مناظر دیکھے گئے۔

جانشینی کا بحران

آیت اللہ خامنہ ای 1989 سے ایران کے سپریم لیڈر تھے۔ ان کی شہادت کے بعد جانشینی کا عمل غیر واضح ہے۔ اسمبلی آف ایکسپرٹس (ماہرین کی مجلس) کو جلد اجلاس طلب کرنا ہوگا۔ ممکنہ امیدواروں میں ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کا نام گردش میں ہے، لیکن کوئی سرکاری اعلان نہیں ہوا۔ عبوری طور پر صدر مسعود پزشکیان، جوڈیشری چیف غلام حسین محسنی ایجی ای اور گارڈین کونسل کے ایک رکن امور سنبھال رہے ہیں۔

یہ صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے، اور علاقائی جنگ مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔ تازہ ترین معلومات کے لیے معتبر ذرائع جیسے IRNA، فارس نیوز، ریٹرز، بی بی سی، الجزیرہ اور دیگر پر نظر رکھیں۔

ایران کی قیادت کی یہ بڑی تبدیلی مشرق وسطیٰ کی سیاست، جوہری پروگرام اور علاقائی توازن کو شدید متاثر کر سکتی ہے۔

مزید خبریں:

ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف

امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”

شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی  کی  انتہا پسندانہ مہم جوئی

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے