امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر فضائی حملوں

امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر فضائی حملوں سے خامنہ ای کی موت کی افواہوں تک: مشرقِ وسطیٰ کے بڑھتے ہوئے بحران کی اندرونی کہانی

امریکہ اور اسرائیل کے حملے: خطے میں خطرناک موڑ

28 فروری 2026 کو مشرقِ وسطیٰ ایک بڑے فوجی بحران کی لپیٹ میں آ گیا جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر مشترکہ فضائی اور میزائل حملے کیے۔ ان حملوں نے نہ صرف ایران کے مختلف فوجی اور حساس مقامات کو نشانہ بنایا بلکہ پورے خطے میں شدید کشیدگی پیدا کر دی۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکوں کی آوازیں تہران سمیت اصفہان، قم، کرج اور کرمانشاہ میں سنی گئیں۔ ایرانی حکام کے مطابق حملوں کا ہدف فوجی اڈے، میزائل تنصیبات، فضائی دفاعی نظام اور بعض حساس حکومتی مقامات تھے۔ بعض رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا کہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے کمپاؤنڈ کے قریب بھی دھماکے ہوئے۔

اسرائیلی اور امریکی حکام نے ان حملوں کو “دفاعی اقدام” قرار دیا جبکہ ایران نے انہیں کھلی جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کہا۔

ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے نئی اپ ڈیٹ ملے


جانی و مالی نقصانات

حملوں کے بعد سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق ایران کو نمایاں جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا۔

  • مختلف فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچا۔
  • بعض اعلیٰ عہدیداروں کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئیں۔
  • جنوبی ایران کے شہر میناب میں ایک اسکول کے قریب حملے میں درجنوں طالبات کے جاں بحق اور زخمی ہونے کی خبریں سامنے آئیں۔
  • تہران کے بعض علاقوں میں بجلی اور بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا۔

دوسری جانب ایران نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی اڈوں کی طرف بیلسٹک میزائل اور ڈرون داغے۔ خلیجی ممالک کے فضائی دفاعی نظام حرکت میں آ گئے اور متعدد ممالک نے اپنی فضائی حدود عارضی طور پر بند کر دیں۔

کچھ اطلاعات کے مطابق متحدہ عرب امارات میں ملبہ گرنے سے ایک شخص ہلاک ہوا جبکہ اسرائیل میں بھی متعدد افراد زخمی ہوئے۔


خامنہ ای کی موت کی افواہیں

حملوں کے فوراً بعد اسرائیلی میڈیا کے بعض ذرائع نے دعویٰ کیا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای حملوں میں ہلاک یا شدید زخمی ہو سکتے ہیں۔ چونکہ ان کے کمپاؤنڈ کے قریب دھماکوں کی اطلاعات تھیں، اس لیے قیاس آرائیاں تیزی سے پھیل گئیں۔

تاہم ایرانی حکام نے ان خبروں کو سختی سے مسترد کر دیا۔ وزارتِ خارجہ کے عہدیداروں نے کہا کہ خامنہ ای محفوظ مقام پر منتقل کر دیے گئے تھے اور وہ زندہ ہیں۔ ایرانی حکومت کا کہنا ہے کہ ملک کی اعلیٰ قیادت مکمل طور پر متحرک ہے اور حالات پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

تاحال خامنہ ای کی براہِ راست عوامی نمائش سامنے نہیں آئی، جس کی وجہ سے افواہوں کا سلسلہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا، لیکن سرکاری سطح پر ان کی سلامتی کی تصدیق کی جا رہی ہے۔


عالمی ردِعمل

روس اور بعض دیگر ممالک نے ان حملوں کی مذمت کی اور خطے میں فوری کشیدگی کم کرنے پر زور دیا۔ یورپی ممالک اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے ہنگامی اجلاس بلانے کی بات کی تاکہ مزید تصادم کو روکا جا سکے۔

خلیجی ممالک نے بھی تشویش کا اظہار کیا کیونکہ ایرانی جوابی کارروائیوں سے ان کی فضائی حدود اور سلامتی متاثر ہوئی۔


آگے کیا ہوگا؟

موجودہ صورتحال نہایت نازک ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست حملوں نے خطے کو ایک خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ تیل کی قیمتوں، عالمی تجارت اور علاقائی سلامتی پر اس بحران کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں تو یہ کشیدگی وسیع تر جنگ کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔

فی الحال ایران کی قیادت کے زندہ ہونے کی سرکاری تصدیق موجود ہے، لیکن 28 فروری 2026 کے یہ واقعات مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ میں ایک اہم اور فیصلہ کن موڑ کے طور پر یاد رکھے جائیں گے۔

مزید خبریں:

ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف

امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”

شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی  کی  انتہا پسندانہ مہم جوئی

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے