وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے نواحی علاقے ترنول میں اسلام آباد فوڈ اتھارٹی (IFA) نے ایک خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے غیر قانونی ذبح خانے پر چھاپہ مارا، جہاں سے 1000 کلوگرام (تقریباً 25 من) گدھے کا گوشت برآمد کیا گیا۔ اس کارروائی میں نہ صرف بھاری مقدار میں پیک شدہ گوشت ملا بلکہ 50 سے زائد زندہ گدھے بھی موجود تھے، جنہیں ذبح کرنے کی تیاری کی جا رہی تھی۔
چھاپے کی قیادت اور گرفتاری
اس اہم کارروائی کی قیادت اسلام آباد فوڈ اتھارٹی کی ڈپٹی ڈائریکٹر آپریشنز ڈاکٹر طاہرہ صدیقی نے کی۔ موقع پر ایک غیر ملکی شہری کو گرفتار کیا گیا، جو اس غیر قانونی ذبح خانے کا مبینہ طور پر مرکزی منتظم تھا۔ دیگر مقامی شریک کار افراد پولیس کے پہنچنے سے پہلے ہی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ گرفتار غیر ملکی کو مزید تفتیش کے لیے متعلقہ تھانے منتقل کر دیا گیا ہے۔
کارروائی کی تفصیلات
اسلام آباد فوڈ اتھارٹی کے ڈائریکٹر عرفان نواز میمن نے میڈیا کو بتایا کہ ادارے کو ایک ہفتہ قبل اس غیر قانونی دھندے کے بارے میں خفیہ اطلاع ملی تھی۔ اس کے بعد کئی روز تک علاقے کی نگرانی کی گئی اور بالآخر 27 جولائی کی رات ٹیم نے چھاپہ مارا۔ موقع پر گدھوں کے لیے بنائے گئے پنجروں کے ساتھ ساتھ، جدید پیکنگ میں بند گوشت بھی ملا، جو غیر ملکی برآمدات کے معیار پر تیار کیا گیا تھا۔
گوشت کی ممکنہ برآمد اور چین سے تعلق
ابتدائی تحقیقات سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ یہ گوشت نہ صرف مقامی ہوٹلوں اور مارکیٹوں کو سپلائی کیا جا رہا تھا بلکہ اسے چین سمیت دیگر ممالک کو برآمد کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ چین میں گدھے کی کھال "ای-جیاو” (Ejiao) نامی روایتی دوا کی تیاری میں استعمال ہوتی ہے، جس کی طلب بہت زیادہ ہے۔
قانونی کارروائی
پولیس نے گرفتار غیر ملکی کے خلاف اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری فوڈ سیفٹی ایکٹ 2021 کی دفعات 11، 12، 13 اور 14 کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے، جن کے تحت غیر محفوظ خوراک، غلط برانڈنگ، غیر قانونی ذبح اور صحت کے لیے خطرناک عمل کی روک تھام کی جاتی ہے۔
ڈاکٹر طاہرہ صدیقی کا بیان
ڈاکٹر طاہرہ صدیقی نے کہا،
"یہ کارروائی نہ صرف قانون کی بالادستی کے لیے کی گئی بلکہ عوامی صحت کے تحفظ کے لیے بھی ضروری تھی۔ غیر قانونی ذبح خانے انسانی صحت کے لیے سنگین خطرہ ہیں، کیونکہ ان میں صفائی اور معیار کا کوئی خیال نہیں رکھا جاتا۔”
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ اگر انہیں کہیں مشکوک گوشت یا غیر قانونی ذبح خانے کی اطلاع ملے تو فوری طور پر اسلام آباد فوڈ اتھارٹی کو اطلاع دیں تاکہ ایسے مکروہ کاروبار کو روکا جا سکے۔
عوامی ردعمل اور آگاہی
اس واقعے کے بعد شہریوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی اس معاملے پر شدید تنقید کی جا رہی ہے اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ذمہ داروں کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔
مستقبل کی حکمت عملی
اسلام آباد فوڈ اتھارٹی نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ دنوں میں شہر بھر میں گوشت فروشوں اور ذبح خانوں کی سخت نگرانی کی جائے گی۔ صرف رجسٹرڈ اور سند یافتہ دکانداروں کو ہی گوشت فروخت کی اجازت دی جائے گی۔
گدھوں کی بڑھتی آبادی اور غیر قانونی تجارت
پاکستان میں گدھوں کی آبادی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اور حالیہ اقتصادی سروے کے مطابق یہ تعداد 60 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ اس بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث غیر قانونی تجارت کو فروغ مل رہا ہے، جس میں گدھوں کا گوشت، کھالیں اور دیگر اعضا شامل ہیں۔
نتیجہ:
یہ واقعہ نہ صرف قانون کی خلاف ورزی کا عکاس ہے بلکہ عوامی صحت پر ایک سنگین حملہ بھی ہے۔ وقت کی ضرورت ہے کہ حکومت، فوڈ اتھارٹی، اور قانون نافذ کرنے والے ادارے متحد ہو کر ایسے نیٹ ورکس کو ختم کریں اور عوام کو محفوظ اور معیاری خوراک کی فراہمی یقینی بنائیں۔
ہوشیار رہیں، محفوظ رہیں۔
مزید خبریں:
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی
انڈیاپاکستان جنگ میں 5 طیارے مار گرانے کے ٹرمپ کے دعویٰ نے مودی کو مشکل میں ڈالدیا
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں