پاکستانی فوج کی ماضی کی تاریخ کے پس منظر میں عمران خان کی زندگی شدید خطرات سے دوچار

عمران خان

عمران خان، پاکستان کے سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی، گزشتہ چند سالوں سے اپنی سیاسی جدوجہد اور پاکستانی فوج کے ساتھ پیچیدہ تعلقات کی وجہ سے خبروں میں ہیں۔ پاکستانی فوج، جو ملک کی سیاست اور سلامتی میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے، ماضی میں کئی بار سول حکومتوں کے ساتھ تنازعات اور اقتدار کی کشمکش کا حصہ رہی ہے۔ اس مضمون میں، ہم پاکستانی فوج کی تاریخی پس منظر کے تناظر میں عمران خان کی زندگی کو لاحق خطرات کا جائزہ لیں گے، خاص طور پر ان کے سیاسی موقف، فوج کے ساتھ تعلقات، اور حالیہ واقعات کی روشنی میں۔

پاکستانی فوج کی تاریخی پس منظر

پاکستانی فوج، جو 1947 میں قیام پاکستان کے بعد وجود میں آئی، ملک کی سب سے بڑی اور طاقتور عسکری قوت ہے۔ اس کے چیف آف آرمی اسٹاف (COAS)، جو ایک فور اسٹار جنرل ہوتا ہے، کو صدر پاکستان کی سربراہی میں کمانڈ حاصل ہوتی ہے۔ انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹیجک اسٹڈیز (IISS) کے 2024 کے اعدادوشمار کے مطابق، پاک فوج کے پاس تقریباً 560,000 فعال فوجی ہیں، جو اسے دنیا کی چھٹی بڑی فوج بناتا ہے۔

فوج کا بنیادی آئینی مشن پاکستان کی قومی سلامتی اور اتحاد کو یقینی بنانا ہے، لیکن اس نے ماضی میں کئی بار سول حکومتوں کے خلاف مارشل لا نافذ کیا اور سیاسی عمل میں مداخلت کی۔ 1958، 1977، اور 1999 میں فوجی بغاوتوں نے سول حکومتوں کا تختہ الٹ دیا، اور فوج پر الزامات لگے کہ وہ "ریاست کے اندر ریاست” کے طور پر کام کرتی ہے۔ ایوب خان، یحییٰ خان، ضیاء الحق، اور پرویز مشرف جیسے فوجی سربراہان نے طویل عرصے تک ملک پر براہ راست یا بالواسطہ حکمرانی کی۔

فوج نے نہ صرف خارجہ خطرات (جیسے کہ بھارت کے ساتھ جنگیں اور بلوچستان میں بغاوت) کا مقابلہ کیا بلکہ اندرونی سیاسی استحکام کو بھی کنٹرول کرنے کی کوشش کی۔ اس کی سیاسی مداخلت نے کئی رہنماؤں، جیسے ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو، کے ساتھ تنازعات کو جنم دیا، جنہیں بالترتیب پھانسی اور قتل کا سامنا کرنا پڑا۔

عمران خان اور فوج: ایک پیچیدہ تعلق

عمران خان، جو 2018 سے 2022 تک پاکستان کے وزیراعظم رہے، ابتدا میں فوج کے ساتھ قریبی تعلقات کے حامل سمجھے جاتے تھے۔ 2018 کے انتخابات میں ان کی جیت کو فوج کی حمایت سے منسوب کیا گیا، اور پی ٹی آئی کے کارکنوں نے فوج اور عمران خان کے "ایک پیج پر” ہونے کی بات کی۔ تاہم، ان کے اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد، خاص طور پر اپریل 2022 میں تحریک عدم اعتماد کے ذریعے، ان کے فوج کے ساتھ تعلقات خراب ہو گئے۔

عمران خان نے اپنی برطرفی کو ایک "امریکی سازش” سے تعبیر کیا اور دعویٰ کیا کہ سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اس میں کردار ادا کیا۔ انہوں نے اپنے جلسوں میں فوج پر تنقید کی، خاص طور پر ایک آئی ایس آئی جنرل کو 2022 میں ان پر ہونے والے قاتلانہ حملے کا ذمہ دار ٹھہرایا، جسے وہ "ڈرٹی ہیری” کہتے ہیں۔ یہ تنقید پاکستانی تاریخ میں غیر معمولی تھی، کیونکہ ماضی میں فوج پر براہ راست تنقید کرنے والے سیاستدانوں، جیسے علی وزیر، کو سخت نتائج بھگتنا پڑے۔

نو مئی 2023 کے واقعات نے فوج اور عمران خان کے تعلقات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ عمران خان کی گرفتاری کے بعد، پی ٹی آئی کے حامیوں نے فوجی تنصیبات، جیسے کور کمانڈر ہاؤس اور جی ایچ کیو، پر حملے کیے، جو فوج نے "پاکستان کی تاریخ کا سیاہ دن” قرار دیا۔ اس کے بعد فوج نے پی ٹی آئی کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کیا، اور عمران خان کے حامیوں کو گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا کرنا پڑا۔

عمران خان کی زندگی کو لاحق خطرات

عمران خان کی زندگی کو لاحق خطرات کئی پہلوؤں سے جڑے ہیں، جن میں سے کچھ ذیل میں بیان کیے گئے ہیں:

1. قاتلانہ حملہ (نومبر 2022)

3 نومبر 2022 کو، وزیرآباد میں آزادی مارچ II کے دوران عمران خان پر قاتلانہ حملہ ہوا، جس میں ان کی دائیں ٹانگ پر گولیاں لگیں اور ان کے ٹبیا ہڈی ٹوٹ گئی۔ حملہ آور محمد نوید کو گرفتار کیا گیا، جس نے دعویٰ کیا کہ اس نے عمران خان کو "نفرت پھیلانے” اور "مذہب مخالف” تبصروں کی وجہ سے نشانہ بنایا۔ تاہم، پی ٹی آئی نے اسے ایک "کور اپ” قرار دیا اور وزیراعظم شہباز شریف، وزیرداخلہ رانا ثناء اللہ، اور میجر جنرل فیصل نصیر کو اس کے پیچھے ذمہ دار ٹھہرایا۔ پاک فوج نے حملے کی مذمت کی، لیکن عمران خان کے الزامات نے فوج کے ساتھ ان کے تعلقات کو مزید کشیدہ کر دیا۔

2. جیل میں حالات

اگست 2023 سے عمران خان اڈیالہ جیل، راولپنڈی میں قید ہیں، جہاں وہ توشہ خانہ، سائفر، اور القادر ٹرسٹ کیسز سمیت متعدد مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کی بہنوں، علیمہ خان اور عظمیٰ خان، نے جیل میں ان کی حفاظت کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا ہے۔ علیمہ خان نے دعویٰ کیا کہ استغاثہ نے ان کے لیے سزائے موت کا مطالبہ کیا، جو ان کی زندگی کے لیے خطرے کی نشاندہی کرتا ہے۔ ان کے وکیل نعیم حیدر پنجوتہ نے کہا کہ عمران خان کو "ڈیتھ سیل” میں رکھا گیا ہے، جو سابق وزیراعظم کے لیے مناسب نہیں۔ دوسری طرف، حکومتی دستاویزات دعویٰ کرتی ہیں کہ انہیں ٹی وی، کولر، اور ورزش کی سہولیات دی گئی ہیں۔

3. فوج کی مبینہ دشمنی

عمران خان نے بارہا دعویٰ کیا کہ فوج انہیں سیاسی طور پر ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے زمان پارک میں 2023 کے تصادم کو فوج کی حمایت یافتہ کارروائی قرار دیا، جہاں پولیس نے انہیں گرفتار کرنے کی کوشش کی۔ سیاسی مبصر رسول بخش رئیس کے مطابق، یہ فوج اور اس کے سیاسی اتحادیوں کی ایک سالہ مہم کا حصہ تھا تاکہ عمران خان کو سیاست سے ہٹایا جائے۔ فوج کی جانب سے پی ٹی آئی کے خلاف کریک ڈاؤن، خاص طور پر نو مئی کے واقعات کے بعد، اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ فوج اب عمران خان کی حمایت نہیں کرتی، جیسا کہ ماضی میں کرتی تھی۔

4. سیاسی دباؤ اور مقدمات

عمران خان پر 200 سے زائد مقدمات درج ہیں، جن میں سے کچھ کو سیاسی انتقام کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ ان کی گرفتاری کے وارنٹ توشہ خانہ کیس میں جاری کیے گئے، اور وہ الیکشن سے قبل انہیں ہٹانے کی کوشش کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ان کے بیٹوں، قاسم اور سلیمان، نے دعویٰ کیا کہ انہیں غیر انسانی حالات میں رکھا گیا ہے، جیسے کہ بغیر روشنی یا مناسب طبی سہولیات کے۔ یہ حالات ان کی صحت اور حفاظت کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

فوج کی تاریخی تناظر میں خطرات کا تجزیہ

پاکستانی فوج کی تاریخ سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ سیاسی رہنماؤں کے خلاف سخت اقدامات اٹھانے سے گریز نہیں کرتی۔ ذوالفقار علی بھٹو کو 1979 میں پھانسی دی گئی، جبکہ بینظیر بھٹو کی 2007 میں قتل کی تحقیقات کبھی مکمل نہ ہوئیں۔ عمران خان کی فوج پر براہ راست تنقید اور عوامی حمایت نے انہیں فوج کے لیے ایک چیلنج بنا دیا ہے۔ نو مئی 2023 کے واقعات کے بعد، فوج نے واضح کیا کہ وہ عمران خان کے خلاف سخت موقف اپنائے گی، جس سے ان کی زندگی کو لاحق خطرات میں اضافہ ہوا۔

تاہم، عمران خان کی عوامی مقبولیت اور بین الاقوامی توجہ ان کے لیے ایک حفاظتی ڈھال کا کام کرتی ہے۔ ان کے بیٹوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے رہائی کی اپیل کی، اور ان کی بہنوں نے ملکی و بین الاقوامی عدالتوں میں ان کی حفاظت کے لیے آواز اٹھائی۔ اس کے باوجود، فوج کی تاریخی مداخلت اور عمران خان کے خلاف مقدمات کی تعداد ان کی زندگی کو مسلسل خطرے میں رکھتی ہے۔

خلاصہ:

عمران خان کی زندگی کو لاحق خطرات پاکستانی فوج کی ماضی کی تاریخ اور ان کے موجودہ سیاسی کردار کے تناظر میں گہرے ہیں۔ فوج کے ساتھ ان کے تعلقات کی خرابی، قاتلانہ حملہ، جیل کے حالات، اور متعدد مقدمات ان خطرات کو اجاگر کرتے ہیں۔ اگرچہ ان کی عوامی مقبولیت اور خاندان کی سرگرمیاں ان کے لیے کچھ تحفظ فراہم کرتی ہیں، لیکن فوج کی طاقت اور ماضی کے اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عمران خان کی سیاسی جدوجہد ان کی زندگی کو مسلسل خطرے میں ڈالتی ہے۔ مستقبل میں، ان کی رہائی یا سیاسی استحکام پاکستان کی سول-عسکری تعلقات پر منحصر ہے، جو کہ تاریخی طور پر غیر یقینی رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے