مولانا طارق جمیل سے متعلق سوشل میڈیا پر تنازعات: ایک تفصیلی جائزہ
مولانا طارق جمیل، پاکستان کے معروف عالم دین، مبلغ، اور تبلیغی جماعت کے سرکردہ رکن ہیں، جنہوں نے اپنے سادہ، جذباتی اور پر اثر اندازِ بیان کی وجہ سے عالمی شہرت حاصل کی۔ ان کے خطبات نے نہ صرف عام لوگوں بلکہ مشہور شخصیات جیسے گلوکاروں، اداکاروں اور کھلاڑیوں کو بھی دین کی طرف راغب کیا۔ تاہم، حالیہ برسوں میں، خاص طور پر 2025ء میں، سوشل میڈیا پر ایسی پوسٹس گردش کر رہی ہیں جن میں دعویٰ کیا گیا کہ مولانا طارق جمیل کو تبلیغی جماعت سے نکال دیا گیا یا ان کے بیانات پر پابندی عائد کی گئی۔ ان دعوؤں کی وجہ مبینہ طور پر ان کے سیاسی بیانات یا سابق وزیراعظم عمران خان کی حمایت کو قرار دیا جاتا ہے۔ یہ مضمون ان دعوؤں کی حقیقت، ان کے پس منظر، اور سوشل میڈیا پر پھیلنے والی افواہات کے اثرات کا جائزہ لیتا ہے۔
سوشل میڈیا پر دعوؤں کا پس منظر
2025ء میں سوشل میڈیا، خصوصاً ایکس (X) پر متعدد پوسٹس سامنے آئیں جن میں کہا گیا کہ مولانا طارق جمیل کو تبلیغی جماعت سے "فارغ” کر دیا گیا یا انہیں تبلیغی اجتماعات میں خطاب کرنے سے روک دیا گیا۔ مثال کے طور پر، کچھ صارفین نے دعویٰ کیا کہ مانسہرہ کے ایک تبلیغی اجتماع میں انہیں خطاب سے قبل روکا گیا یا اجتماع کے دروازے سے واپس لوٹا دیا گیا۔ دیگر پوسٹس میں یہ الزام لگایا گیا کہ ان کی مبینہ سیاسی وابستگی، خاص طور پر عمران خان کی حمایت، اس فیصلے کی وجہ بنی۔ ان پوسٹس میں بعض اوقات جذباتی اور سخت الفاظ استعمال کیے گئے، جیسے کہ "یزیدیت کے مقابلے میں حسینیت کے داعی” یا "ظالم حکمرانوں کے سامنے نہ جھکنا”، جو سیاسی تناظر کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
تاہم، یہ دعوے غیر مصدقہ ہیں اور ان کی صداقت کے بارے میں کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں۔ تبلیغی جماعت کے ایک ذمہ دار، مولانا احتشام اللہ نے 2022ء میں اسی طرح کی افواہوں کی تردید کی تھی، یہ کہتے ہوئے کہ مولانا طارق جمیل کبھی بھی تبلیغی جماعت کی مرکزی شوریٰ کے رکن نہیں رہے، اس لیے انہیں "نکالنے” کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس قسم کے دعوؤں کی تاریخ پرانی ہے اور یہ وقتاً فوقتاً سوشل میڈیا پر ابھرتے رہتے ہیں۔
سیاسی تنازعات اور مولانا طارق جمیل
مولانا طارق جمیل کی شہرت کا ایک اہم پہلو ان کا غیر مسلکی رویہ اور اتحادِ امت پر زور دینا ہے۔ وہ فرقہ واریت کے سخت مخالف رہے ہیں اور انہوں نے اپنی کتاب "گلدستہ اہل بیت” کے ذریعے اس موقف کو واضح کیا۔ تاہم، ان کے بعض بیانات اور سیاسی شخصیات سے ملاقاتوں نے انہیں تنازعات کا حصہ بنایا۔ مثال کے طور پر:
- عمران خان سے تعلقات: مولانا طارق جمیل نے 2018ء سے 2022ء تک متعدد مواقع پر عمران خان کی حمایت کی، خاص طور پر ان کے "ریاست مدینہ” کے نظریے کی۔ انہوں نے بنی گالہ میں رمضان کی 27ویں شب کی دعا کی اور دیگر دینی مواقع پر عمران خان کے ساتھ ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں کو کچھ حلقوں نے سیاسی وابستگی سے تعبیر کیا، جس کی وجہ سے سوشل میڈیا پر تنقید کا سلسلہ شروع ہوا۔
- سیاسی بیانات: 2021ء میں ایک ٹی وی پروگرام میں انہوں نے جمہوریت کے بارے میں کہا کہ "ہم لوگ جمہوریت کے قابل نہیں” اور "یہاں باریاں لگی ہوئی ہیں”، جو سیاسی حلقوں میں متنازع سمجھا گیا۔ اس بیان پر حزب اختلاف کے رہنماؤں، جیسے خواجہ سعد رفیق، نے ان سے وضاحت طلب کی۔
- میڈیا پر تنقید: 2020ء میں "احساس ٹیلی تھون” کے دوران مولانا طارق جمیل نے میڈیا کو "جھوٹا” قرار دیا، جس پر صحافیوں اور سیاسی حلقوں نے سخت تنقید کی۔ بعد میں انہوں نے معافی مانگی، لیکن اس واقعے نے ان کے ناقدین کی تعداد بڑھائی۔
ان واقعات نے سوشل میڈیا پر ان کے خلاف ایک بیانیہ بنانے میں کردار ادا کیا، جہاں کچھ صارفین نے انہیں "سیاسی عالم” یا "مقتدرہ کا حامی” قرار دیا۔
تبلیغی جماعت کا کردار اور غیر سیاسی موقف
تبلیغی جماعت ایک عالمی دینی تحریک ہے جو اپنے آپ کو غیر سیاسی قرار دیتی ہے۔ اس کا بنیادی مقصد لوگوں کو دینی تعلیمات کی طرف راغب کرنا اور اخلاقی اقدار کو فروغ دینا ہے۔ مولانا طارق جمیل نے خود کہا ہے کہ "ہماری تبلیغ کا اصول ہے کہ ہم مذمت نہیں کرتے، مثبت بات کرتے ہیں۔” تاہم، جب وہ سیاسی شخصیات سے ملتے ہیں یا سماجی مسائل پر بات کرتے ہیں، تو ان کے بیانات کو سیاسی تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔
2025ء کی سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ تبلیغی جماعت نے انہیں سیاسی بیانات کی وجہ سے نکال دیا۔ تاہم، یہ دعوے تبلیغی جماعت کے غیر سیاسی موقف کے منافی ہیں، کیونکہ جماعت عام طور پر اپنے ارکان کو سیاسی تنازعات سے دور رکھنے کی ہدایت کرتی ہے۔ مزید برآں، ان دعوؤں کی کوئی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی، اور نہ ہی تبلیغی جماعت کے کسی ذمہ دار نے اس حوالے سے کوئی بیان جاری کیا۔ اس سے یہ امکان مضبوط ہوتا ہے کہ یہ پوسٹس افواہات یا سیاسی مقاصد کے لیے پھیلائی گئی ہیں۔
سوشل میڈیا پر افواہات کے اثرات
سوشل میڈیا نے مولانا طارق جمیل جیسے عوامی شخصیات کے بارے میں معلومات پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی یہ افواہات اور غلط معلومات کا ذریعہ بھی بنتا ہے۔ 2025ء کے دعوؤں کے چند اہم اثرات درج ذیل ہیں:
- عوامی رائے پر اثر: ان پوسٹس نے مولانا طارق جمیل کے چاہنے والوں میں تشویش پیدا کی۔ کچھ لوگوں نے ان کے حق میں آواز اٹھائی، جیسے کہ ایک صارف نے کہا کہ "اللہ آپ کو دین کی مزید خدمت کا موقع دے۔” جبکہ دیگر نے ان پر تنقید کی، انہیں "پنکی گوگی جیسی شخصیات” کے ساتھ جوڑ کر طنز کیا۔
- سیاسی تنازعات کا حصہ بننا: یہ دعوے پاکستان کے موجودہ سیاسی ماحول سے جڑے ہوئے ہیں، جہاں سیاسی جماعتوں اور اداروں کے درمیان تناؤ عروج پر ہے۔ عمران خان کی حمایت کے الزام نے ان پوسٹس کو سیاسی انتقام بازی کا حصہ بنا دیا۔
- تبلیغی جماعت کی ساکھ: ان افواہات نے تبلیغی جماعت کی غیر جانبداری پر بھی سوالات اٹھائے۔ کچھ صارفین نے دعویٰ کیا کہ جماعت پر "مقتدرہ” یا "شریف خاندان” کا اثر ہے، جو اس کی غیر سیاسی حیثیت کو متنازع بناتا ہے۔
- معلومات کی صداقت کا فقدان: سوشل میڈیا پر پھیلنے والی یہ پوسٹس بغیر کسی معتبر ذریعے کے ہیں۔ مثال کے طور پر، اردو پوائنٹ کی ایک ویڈیو میں "قریبی ساتھی” کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا، لیکن اس کی تفصیلات یا تصدیق پیش نہیں کی گئی۔
افواہات سے نمٹنے کی ضرورت
یہ دعوے غیر مصدقہ ہونے کی وجہ سے احتیاط سے دیکھے جانے چاہئیں۔ سوشل میڈیا پر افواہات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے درج ذیل اقدامات اہم ہیں:
- حقیقت کی جانچ: عوام کو چاہیے کہ وہ سوشل میڈیا کی خبروں کو معتبر ذرائع سے تصدیق کریں۔ مولانا طارق جمیل یا تبلیغی جماعت سے متعلق کوئی سرکاری بیان یا دستاویز اس دعوے کی تصدیق نہیں کرتی۔
- سیاسی تناظر سے گریز: مولانا طارق جمیل جیسے دینی رہنماؤں کو سیاسی تنازعات سے الگ رکھنا چاہیے تاکہ ان کی دینی خدمات متاثر نہ ہوں۔
- سوشل میڈیا کی ذمہ داری: صارفین کو غیر مصدقہ معلومات پھیلانے سے گریز کرنا چاہیے، کیونکہ یہ معاشرتی ہم آہنگی کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
نتیجہ
مولانا طارق جمیل سے متعلق 2025ء میں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کا کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں۔ یہ دعوے کہ انہیں تبلیغی جماعت سے نکال دیا گیا یا ان کے بیانات پر پابندی لگائی گئی، زیادہ تر افواہات یا سیاسی تنازعات کا حصہ دکھائی دیتے ہیں۔ ان کی عمران خان سے ملاقاتوں اور بعض بیانات نے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا، لیکن ان کی دینی خدمات اور اتحادِ امت کے پیغام کی اہمیت ناقابل انکار ہے۔ عوام کو چاہیے کہ وہ ایسی خبروں کو احتیاط سے دیکھیں اور معتبر ذرائع سے تصدیق کریں۔ مولانا طارق جمیل کی دینی خدمات کو سیاسی تنازعات سے بالاتر رکھتے ہوئے ان کے اصلاحی پیغام پر توجہ دینی چاہیے۔