موجودہ دور میں ہماری ذمہ داریاں !
موجود دور میں امت مسلمہ جس ذبوں حالی کی شکار ہے اس سے قوم و ملت کے غیور اور مخلص اہل علم و راہنما انتہائی تشویش میں مبتلا ہیں
آئے دن امت مسلمہ کی دردناک داستانیں پردہ سماعت سے ٹکراتی رہتی ہیں، خود ناچیز نے جب سے ہوش سنبھالا ہے 2001 سے لے کر رواں سال 2026 تک مسلسل امت مسلمہ کے خون کے مناظر دیکھ رہا ہوں
افغانستان سے شروع ہوئی مسلمانوں کی مظلوم داستان ایک ہی جلد میں ختم ہوگی یا اس کی کئی جلدیں شائع ہوں گی نہی
ان سنگین اور تشویش ناک حالات میں امت مسلمہ انتہائی تذبذب اور کشمکش میں مبتلا ہے کہ یہ ابتلا اور آزمائش کا دور کب ختم ہوگا، نصرت خداوندی کب آئے گی کب ہم کو امن و امان کی زندگی نصیب ہوگی جبکہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو ہر چیز کی تعلیم دی ہے اور اپنی امت کو زندگی کے ہر میدان میں راہنمائی کی ہے
اخلاق و عادات اور عقائد سے لے کر معاملات اور علم و ہنر کا ہر درس ہم کو دیا ہے تو غلطی کہاں ہو رہی ہے؟؟؟
بلاشبہ غلطی اور خطائیں ہم سے سرزد ہو رہی ہیں کیونکہ ہم نے دین اسلام کی واضح تعلیمات کو سمجھا ہی نہیں اور نہ ہی ہم نے دین اسلام کی تعلیمات پر کما حقہ عمل کرنے کی کوشش کی ہے اگر ہم صحابہ کرام کی طرح دین اسلام کی روشن تعلیمات پر عمل پیرا ہوتے تو یقین مانیے ہم بھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی طرح آسمان کے خوبصورت کہکشاں میں جگمگاتے نظر آتے ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے نئی اپ ڈیٹ ملے۔
اس مختصر سے مضمون میں ہم یہ بات جاننے اور سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ قوم و ملت کو درپیش سنگین اور پریشان کن حالات میں امت مسلمہ کو کیا کرنا چاہئے اور شریعت اسلامیہ ہم سے کس چیز کا مطالبہ کرتی ہے
١, خود احتسابی کا جائزہ
سب سے پہلی بات جو امت مسلمہ کو سمجھ لینی چاہئے کہ ہمیں اپنی حالت درست کرنے اور خود کو بہتر بنانے اور ایک خوبصورت زندگی گزارنے کی فکر ہونی چاہیئے
جیسا کہ خود رب العالمین نے فرمایا
اِنَّ اللّٰہَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوۡمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوۡا مَا بِاَنۡفُسِہِمۡ ؕ
کسی قوم کی حالت اللہ تعالیٰ نہیں بدلتا جب تک کہ وه خود اسے نہ بدلیں [الرعد 11]
کیونکہ جس قوم و ملت کو اپنی حالت درست کرنے اور اپنی کوتاہیوں کی اصلاح کرنے کی فکر نا ہو تو وہ قوم زندہ و جاوید نہیں رہتی بلکہ وہ محض ایک زندہ لاش بن کے رہ جاتی ہے
٢, قرآن و حدیث کی تعلیمات پر عمل کریں ،
ذلت و رسوائی اور مصائب و مشکلات سے بچنا ہے تو ہم کو کتاب و سنت کے مطابق زندگی گزارنی ضروری ہے
جیسا کہ رب العالمین نے واضح الفاظ میں فرمایا ہے
وَ لَا تَہِنُوۡا وَ لَا تَحۡزَنُوۡا وَ اَنۡتُمُ الۡاَعۡلَوۡنَ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۳۹
تم نہ سستی کرو اور غمگین ہو، تم ہی غالب رہو گے، اگر تم ایماندار ہو[آل عمران 139]
لہذا ہم کو گناہوں اور معصیات سے اور اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلّم کی نافرمانی سے بچنا چاہئے
کیونکہ
سست، کاہل اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کرنے والی قوم کو بچانے کے لیے آسمان سے کوئی رحمت کے فرشتے نہیں آئیں گے
٣, خدمت خلق
یہ بات تجربات سے ثابت ہے کہ خدمت خلق ایک عظیم کار خیر ہے جس سے لوگوں کے دل جیتے جا سکتے ہیں بلکہ اس سے خلق کثیر کو تابع بھی بنایا جا سکتا ہے ظاہر سی بات ہے
اندھے کو کیا چاہئے ، آنکھ
جب آپ عوام الناس کی ضروریات کو بنا غرض و غایت پورا کریں گے تو عوام آپ کی گرویدہ ہو جائے گی مذہب اسلام نے بھی بلا تفریق مذہب و ملت خدمت خلق کرنے کی بڑی تاکید کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:” السَّاعِي عَلَى الْأَرْمَلَةِ وَالْمِسْكِينِ كَالْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَوِ الْقَائِمِ اللَّيْلَ الصَّائِمِ النَّهَارَ”.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بیواؤں اور مسکینوں کے کام آنے والا اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے کے برابر ہے، یا رات بھر عبادت اور دن کو روزے رکھنے والے کے برابر ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب النفقات/حدیث: 5353]
اور تو اور خدمت خلق کرنا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف حمیدہ میں شامل ہے جیسا کہ حدیث میں مذکور ہے کہ مائی خدیجہ رضی اللہ عنہا نے اپ کے اخلاق حسنہ بیان کرتے ہوئے فرمایا
فَقَالَتْ خَدِيجَةُ: كَلَّا وَاللَّهِ مَا يُخْزِيكَ اللَّهُ أَبَدًا، إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ، وَتَحْمِلُ الْكَلَّ، وَتَكْسِبُ الْمَعْدُومَ، وَتَقْرِي الضَّيْفَ، وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ڈھارس بندھائی اور کہا کہ آپ کا خیال صحیح نہیں ہے۔ اللہ کی قسم! آپ کو اللہ کبھی رسوا نہیں کرے گا، آپ تو اخلاق فاضلہ کے مالک ہیں، آپ تو کنبہ پرور ہیں، بے کسوں کا بوجھ اپنے سر پر رکھ لیتے ہیں، مفلسوں کے لیے آپ کماتے ہیں، مہمان نوازی میں آپ بےمثال ہیں اور مشکل وقت میں آپ امر حق کا ساتھ دیتے ہیں۔ ایسے اوصاف حسنہ والا انسان یوں بے وقت ذلت و خواری کی موت نہیں پا سکتا
[صحيح البخاري/كتاب بدء الوحى/حدیث: 3]
اسی طرح خدمت خلق سے نہ صرف دنیاوی فوائد حاصل ہوتے ہیں بلکہ اخروی سعادتیں بھی نصیب ہوتی ہیں جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
عَنْ أَبِي ذَرٍّ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:” عُرِضَتْ عَلَيَّ أُمَّتِي بِأَعْمَالِهَا حَسَنِهَا وَسَيِّئِهَا , فَرَأَيْتُ فِي مَحَاسِنِ أَعْمَالِهَا الْأَذَى يُنَحَّى عَنِ الطَّرِيقِ , وَرَأَيْتُ فِي سَيِّئِ أَعْمَالِهَا النُّخَاعَةَ فِي الْمَسْجِدِ لَا تُدْفَنُ”.
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے اچھے اور برے اعمال میرے سامنے پیش کیے گئے، تو میں نے ان میں سب سے بہتر عمل راستے سے تکلیف دہ چیز کے ہٹانے، اور سب سے برا عمل مسجد میں تھوکنے، اور اس پر مٹی نہ ڈالنے کو پایا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3683]
٤, أمر با المعروف و النهى عن المنكر کا فریضہ انجام دینا،
موجودہ دور میں یہود و نصارٰی سمیت اسلام دشمنوں نے مذہب اسلام اور مسلمانوں کے تیئں بہت سی غلط فہمیاں عوام الناس میں پھیلا رکھی ہیں کہ
یہ مسلمان جہادی ہوتے ہیں
تعلیم کے دور ہوتے ہیں
اخلاق سے عاری ہوتے ہیں صنف نازک کے دشمن ہیں
لہذا جب تک ہم ان غلط فہمیوں کو دور نہیں کریں گے ہم امن و امان کی زندگی نہیں گزار سکتے اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب ہم امر بالمعروف و النہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیں گے
ہمیں لوگوں کو اسلام کی سچائی بتانی ہوگی
اخلاق نبوی کو عام کرنا ہوگا سیرت نبوی کے درخشاں پہلو کو واضح کرنا ہوگا
جس سے یقین مانیں اگر کوئی حلقہ اسلام میں بھلے ہی داخل نہ ہو مگر اس کے دل و دماغ سے اسلام اور مسلمانوں کے لیے عصبیت ختم ہو جائے گی اور یوں بھی بہت سے لوگ حق کے متلاشی بھی ہیں، بت پرستی اور طاغوت کی پرستش سے تنگ آگئے ہیں لہذا ان کو آب توحید سے سیراب کرنا ہوگا اور یہ امت محمدیہ پر فرض ہے کیونکہ رب العالمین نے ارشاد فرمایا
کُنۡتُمۡ خَیۡرَ اُمَّۃٍ اُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ تَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ تَنۡہَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡکَرِ وَ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ
تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لئے پیدا کی گئی ہے کہ تم نیک باتوں کا حکم کرتے ہو اور بری باتوں سے روکتے ہو، اور اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہو
آل عمران ،110
٥, تعلیم کو عام کریں
یہ بات ہمیں تسلیم کرنے میں کوئی چیز مانع نہیں کہ مسلمانوں میں تعلیم کا بڑا فقدان ہے جبکہ امت مسلمہ اس بات سے اچھی طرح واقف ہے کہ ہماری کامیابی کا راست تعلیم میں پنہاں ہے لہذا امت مسلمہ کو دینی اور دنیاوی تعلیم میں خود کو بہتر بنانا ہوگا جیسا کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:” طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ،
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”علم دین حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے، [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 224]
کیونکہ موجودہ دور سائنس اور ٹیکنالوجی کا دور ہے لاٹھی ڈنڈے اور تلوار بھالے سے موجودہ دور میں جنگ نہیں کی جاتی بلکہ تعلیم سے آراستہ میزائل کے ذریعے صرف منٹوں سیکنڈوں میں جنگ کا پانسا پلٹ دیا جاتا ہے تعلیم سے انسان بہت کچھ حاصل کر سکتا ہےاسی لیے
رب العالمین نے ارشاد فرمایا
وَ اَعِدُّوۡا لَہُمۡ مَّا اسۡتَطَعۡتُمۡ مِّنۡ قُوَّۃٍ وَّ مِنۡ رِّبَاطِ الۡخَیۡلِ تُرۡہِبُوۡنَ بِہٖ عَدُوَّ اللّٰہِ وَ عَدُوَّکُمۡ
تم ان کے مقابلے کے لئے اپنی طاقت بھر قوت کی تیاری کرو اور گھوڑوں کے تیار رکھنے کی کہ اس سے تم اللہ کے دشمنوں کو خوف زده رکھ سکو اور ان کے سوا اوروں کو بھی، جنہیں تم نہیں جانتے،
( الانفال 60 )
اور یوں بھی
تعلیم سے انسان اپنے رب کی معرفت حاصل کر سکتا ہے تعلیم سے انسان با اخلاق اور مہذب بنتا ہے
تعلیم سے انسان فوز و فلاح پا سکتا ہے
تعلیم سے انسان کی دولت میں فراوانی ہوتی ہے
تعلیم سے انسان دنیا پر حکومت کر سکتا
تعلیم سے انسان تمام تر سہولیات حاصل کرتا ہے
اسی لیے علامہ اقبال نے فرمایا
تعلیم سے آتی ہے اقوام میں بیداری
ہے علم کے پنجہ میں شمشیر جہاں داری
غرض کے تعلیم کے بے شمار فوائد و ثمرات ہیں لہذا مسلمانوں پر ضروری ہے کہ وہ دو نوالے کم کھائیں مگر اپنے بچوں کو تعلیم کے زیور سے ضرور آراستہ کریں،
٦, قوم و ملت میں اتحاد کو فروغ دیں
اخری چیز جو مسلمانوں پر لازم ہے وہ یہ ہے کہ اپنی قوم کے اندر اتحاد و اتفاق کو فروغ دیں ، قوم ملت میں ایثار قربانی کا جذبہ پیدا کریں اور یہی وہ چیز ہے جس کا رب العالمین نے ہم کو حکم دیا
وَ اعۡتَصِمُوۡا بِحَبۡلِ اللّٰہِ جَمِیۡعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوۡا ۪ وَ اذۡکُرُوۡا نِعۡمَتَ اللّٰہِ عَلَیۡکُمۡ اِذۡ کُنۡتُمۡ اَعۡدَآءً فَاَلَّفَ بَیۡنَ قُلُوۡبِکُمۡ فَاَصۡبَحۡتُمۡ بِنِعۡمَتِہٖۤ اِخۡوَانًا ۚ وَ کُنۡتُمۡ عَلٰی شَفَا حُفۡرَۃٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنۡقَذَکُمۡ مِّنۡہَا ؕ کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمۡ اٰیٰتِہٖ لَعَلَّکُمۡ تَہۡتَدُوۡنَ ﴿۱۰۳﴾
اللہ تعالیٰ کی رسی کو سب مل کر مضبوط تھام لو اور پھوٹ نہ ڈالو، اور اللہ تعالیٰ کی اس وقت کی نعمت کو یاد کرو جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی، پس تم اس کی مہربانی سے بھائی بھائی ہوگئے، اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے پہنچ چکے تھے تو اس نے تمہیں بچا لیا۔ اللہ تعالیٰ اسی طرح تمہارے لئے اپنی نشانیاں بیان کرتا ہے تاکہ تم ہدایت پاؤ[آل عمران ،103]
اور نبی اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم نے بھی ارشاد فرمایا
عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:” الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا، وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ”.
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے،بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک مومن دوسرے مومن کے ساتھ ایک عمارت کے حکم میں ہے کہ ایک کو دوسرے سے قوت پہنچتی ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں کے اندر کیا۔ [صحيح البخاري/کتاب المظالم والغصب/حدیث: 2446]
مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ جو مذہب عالمگیر وحدت و اخوت کا داعی وہ پیغمبر ہے آج خود اس کے پیروکار گروہی عصبیت خاندانی برتری زبان وہ بیان اور مسلکی اختلاف کی بنیاد پر انتشار و افتراق کے شکار ہو گئے ہیں
علامہ اقبال نے کیا ہی خوب کہا
فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں
لہذا مسلمانوں پر واجب ہے اور لازم ہے کہ وہ اپنے اتحاد و اتفاق کو فروغ دیں اور اپس میں بھائی چارہ کے ساتھ زندگی گزاریں
دعا ہے کہ رب العالمین ہم کو قران اور حدیث کے تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے آمین یا رب العالمین
✒️ ڈی محمد خالد جامعی سلفی ندوی ، ہری ہر، کرناٹک
مزید خبریں:
ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف
امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی