شيخ على طنطاوىؒ

جرأتِ ایمان کا درخشاں منظرشيخ على طنطاوىؒ

اور یہی وہ مقام ہے جہاں حسن بصریؒ کی شخصیت اپنے پورے جلال کے ساتھ سامنے آتی ہے—وہ محض واعظ نہیں، بلکہ حق کا اعلان ہیں؛ وہ محض عالم نہیں، بلکہ ضمیر کی بیداری کی آواز ہیں۔ نہ کسی امیر کی ہیبت انہیں خاموش کر سکتی ہے، نہ کسی سلطان کا جبر ان کے لب سی سکتا ہے۔ کبھی کنایہ میں بات کہتے ہیں، اور کبھی صاف اور بےلاگ انداز میں حق کو آشکار کر دیتے .

چنانچہ جب وہ امراء کی عیش پرستی کے مقابلے میں سیرتِ نبوی ﷺ کا نقشہ کھینچتے ہیں، تو گویا ایک میزان قائم کر دیتے ہیں— ایک طرف قناعتِ نبوی کی روشنی، اور دوسری طرف خواہشات کے اندھیروں میں بھٹکتا انسان:

"رسول اللہ ﷺ نہ بلند خوانوں کے عادی تھے، نہ دروازوں اور پردوں کے حصار میں رہتے تھے؛ وہ زمین پر بیٹھتے، سادہ کھانا کھاتے، کھردرا لباس پہنتے اور گدھے پر سواری کرتے تھے”.

ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے نئی اپ ڈیٹ ملے

پھر ایک آہِ حسرت کے ساتھ فرماتے ہیں: "کتنے ہی لوگ ہیں جو نبی کی سنت سے منہ موڑ چکے ہیں، اور کتنے ہیں جو اسے ترک کر بیٹھے ہیں”.

اور آخر میں علمائے سوء پر ان کی تنقید گویا بجلی بن کر گرتی ہے—وہ لوگ جو ہر حاکم کے سامنے اس کی خواہش کے مطابق دین کو ڈھال لیتے ہیں:

"یہ فاسق لوگ ہیں، جو اللہ کی راہ سے بھٹک گئے۔ وہ کہتے ہیں: ہمیں اپنی عیش و عشرت میں کوئی قباحت نہیں—اور آیاتِ قرآنی کو اپنی خواہشات کے مطابق موڑ دیتے ہیں، حالانکہ وہ انہیں وہاں لے جاتے ہیں جہاں اللہ نے انہیں نہیں رکھا”.

یہ وہ صدائے حق ہے جو کبھی مدھم نہیں پڑی—اور یہی وہ وراثت ہے جو حسن بصریؒ کو محض ایک شخصیت نہیں، بلکہ ایک زندہ مکتبِ فکر بنا دیتی ہے۔

اور اسی بےباکیِ اظہار اور صداقتِ کردار کا ایک اور درخشاں منظر دیکھیے، جو حسن بصریؒ کی شخصیت کے جوہر کو اور نمایاں کر دیتا ہے.

جب عمر بن ہبیرہ کو عراق کی ولایت عطا كى گئی تو اس نے اپنے عہد کے تین جلیل القدر تابعین—حسن بصریؒ، شعبی اور ابن سیرین—کو اپنے پاس بلایا۔ یہ وہ نفوس تھے جن کے علم و فضل پر زمانہ نازاں تھا اور جن کی زبان سے نکلنے والا ہر لفظ میزانِ حق سمجھا جاتا تھا۔

ابن ہبیرہ نے نہایت اضطراب کے ساتھ کہا:

"امیر المؤمنین یزید بن عبد الملک مجھے ایسے احکام بھیجتا ہے کہ اگر میں ان کی تعمیل کروں تو اللہ کی ناراضی لازم آتی ہے، اور اگر میں انکار کروں تو اس کے غضب و سطوت سے بچنا مشکل ہے۔ آپ حضرات کی کیا رائے ہے—کیا اس کی اطاعت میں میرے لیے کوئی گنجائش ہے”؟

شعبی اور ابن سیرین نے حکمت و مصلحت کے دائرے میں رہتے ہوئے جواب دیا—ایسا جواب جس میں احتیاط کا پہلو غالب تھا اور مدارات کی لطافت جھلکتی تھی۔ مگر حسن بصریؒ خاموش رہے؛ گویا حق کا ایک بھاری کلمہ ان کے سینے میں اتر رہا ہو۔

بالآخر ابن ہبیرہ نے انہی کی طرف متوجہ ہو کر عرض کیا:”اے ابو سعید! آپ کیا فرماتے ہیں”؟

تب حسن بصریؒ نے سر اٹھایا، اور وہ کلمات ادا کیے جو محض نصیحت نہ تھے بلکہ وجدان کی گہرائی سے اٹھنے والی صدائے حق تھے:

"اے عمر بن ہبیرہ! قریب ہے کہ اللہ کا ایک سخت مزاج اور درشت فرشتہ تیرے پاس آئے، اور تجھے تیرے وسیع و عریض محل سے نکال کر تنگ و تاریک قبر میں لے جائے۔اے عمر بن ہبیرہ! اگر تو اللہ سے ڈرے گا تو وہ تجھے یزید بن عبد الملک کے شر سے محفوظ رکھے گا، اور اگر تو یزید کی اطاعت کرے گا تو وہ تجھے اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکے گا۔

اے عمر بن ہبیرہ! اس سے بےخوف نہ ہو کہ اللہ تجھے اس حال میں دیکھے کہ تو یزید کی خوشنودی کے لیے بدترین اعمال کر رہا ہے، پھر وہ تجھ پر غضب کی نظر ڈالے اور تیرے لیے مغفرت کے دروازے بند کر دے۔

اے عمر بن ہبیرہ! میں نے اس امت کے ابتدائی لوگوں کو دیکھا ہے کہ وہ دنیا کے آنے کے وقت بھی اس سے زیادہ بےرغبت تھے، جتنا تم اس کے رخصت ہونے کے باوجود اس کے پیچھے لپکے جاتے ہو۔

اے عمر بن ہبیرہ! اگر تو اللہ کی اطاعت میں اس کے ساتھ ہو جائے تو وہ تجھے یزید کے مکر سے بچا لے گا، اور اگر تو یزید کے ساتھ ہو کر اللہ کی نافرمانی کرے گا تو اللہ تجھے اسی کے سپرد کر دے گا۔”

یہ کلمات بجلی بن کر گرے—دل لرز اٹھا، اور غرور کی دیواریں منہدم ہو گئیں۔ عمر بن ہبیرہ کی آنکھوں سے آنسو اس شدت سے بہے کہ اس کی داڑھی تر ہو گئی، اور اس کے دل پر حق کی مہر ثبت ہو گئی۔ پھر اس نے حسن بصریؒ کی تعظیم میں اضافہ کیا اور انہیں اپنے ہم عصروں پر فوقیت دی—گویا اس نے اعتراف کر لیا کہ جو زبان حق کہتی ہے، وہی اصل میں صاحبِ عظمت ہے۔

_________________

رجال من التاريخ

شيخ على طنطاوى

اردو : تاریخ ساز شخصیات

ص 146-152:

ترجمه و تدوین –

ڈاکٹر معراج الدین ندوی

سرنگر کشمیر

مزید خبریں:

ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف

امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”

شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی  کی  انتہا پسندانہ مہم جوئی

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے