امریکہ نے ایران پر کیا براہ راست خطرناک حملہ

ٹرمپ کا دعویٰ: تہران پر بڑے حملے میں اعلیٰ ایرانی فوجی رہنما ہلاک

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ تہران پر کیے گئے ایک "بڑے حملے” میں ایران کے کئی اعلیٰ فوجی رہنما ہلاک ہو گئے ہیں۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک ویڈیو بھی شیئر کی جس میں تہران کے آسمان میں دھماکوں کی روشنیاں نظر آ رہی ہیں۔

ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے نئی اپ ڈیٹ ملے

ٹرمپ نے لکھا:
"ایران کے بہت سے فوجی رہنما، جنہوں نے انہیں بری اور غیر دانشمندانہ قیادت دی، اس بڑے حملے میں ختم کر دیے گئے ہیں — تہران پر اس بڑے حملے کے ساتھ بہت کچھ اور بھی!”

انہوں نے ایرانی فوجی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ "غریب اور غیر دانشمندانہ” طریقے سے قیادت کر رہے تھے۔

واقعہ کی تفصیلات

  • یہ دعویٰ حالیہ امریکی-اسرائیلی حملوں کے سلسلے میں سامنے آیا ہے جو فروری 2026 سے جاری ہیں۔
  • ٹرمپ نے ویڈیو کے ساتھ کوئی مخصوص تاریخ یا ٹارگٹ کی تفصیل نہیں بتائی۔
  • ایرانی فریق نے اب تک اس مخصوص دعوے کی تصدیق یا تردید نہیں کی ہے۔
  • جنگ کے آغاز سے ہی متعدد ایرانی اعلیٰ قیادت (بشمول سپریم لیڈر علی خامنہ ای اور دیگر فوجی کمانڈرز) امریکی-اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہو چکی ہے۔

تنازع کا پس منظر

امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری 2026 کو ایران کے خلاف آپریشن "Epic Fury” شروع کیا تھا۔ اس کے نتیجے میں:

  • ایران کے جوہری تنصیبات، میزائل اڈے اور فوجی مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔
  • ایرانی قیادت میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔
  • ایران نے اسرائیل اور علاقائی امریکی اڈوں پر جوابی میزائل اور ڈرون حملے کیے۔

جنگ اب بھی جاری ہے اور دونوں طرف سے شدید بیانات آ رہے ہیں۔ ٹرمپ نے حال ہی میں خبردار کیا ہے کہ اگر ایران آبنائے ہرمز بند رکھے تو مزید شدید حملے کیے جائیں گے، جن میں پل اور پاور پلانٹس بھی شامل ہو سکتے ہیں۔

ردعمل

  • ایرانی میڈیا اور حکام اب تک اس نئے دعوے پر خاموش ہیں یا اسے پروپیگنڈا قرار دے رہے ہیں۔
  • بین الاقوامی میڈیا (جیسے Times of India، Reuters، Al Jazeera) نے ٹرمپ کے بیان اور ویڈیو کو رپورٹ کیا ہے، لیکن آزاد تصدیق ابھی مشکل ہے کیونکہ جنگ کے علاقے میں رسائی محدود ہے۔

یہ دعویٰ اس وقت سامنے آیا جب دونوں فریق جنگ کو ختم کرنے کے لیے کوئی واضح راستہ نہیں دکھا رہے۔ تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے، اور تیل کی قیمتیں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔

مزید اپ ڈیٹس کے لیے معتبر ذرائع (Reuters، BBC، Al Jazeera) کا انتظار کریں۔ اگر آپ اس موضوع پر کوئی مخصوص پہلو (جیسے جنگ کی تازہ صورتحال یا ایرانی ردعمل) جاننا چاہتے ہیں تو بتائیں۔

نوٹ: جنگ کے دوران دونوں طرف سے بیانات اکثر پروپیگنڈا کا حصہ ہوتے ہیں، اس لیے ہر خبر کو متعدد ذرائع سے چیک کریں۔

مزید خبریں:

ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف

امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”

شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی  کی  انتہا پسندانہ مہم جوئی

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے