ایران کے جنوب مغربی علاقے میں امریکی لڑاکا طیارے کو ایران نے نشانہ بنایا پائلٹ لاپتہ
دبئی/واشنگٹن، 3 اپریل 2026: ایران کے سرکاری براڈکاسٹر اسلامک ری پبلک آف ایران براڈکاسٹنگ (IRIB) سے وابستہ ایک مقامی چینل نے جمعہ کو دعویٰ کیا کہ جنوب مغربی ایران کے اوپر ایک امریکی لڑاکا طیارے سے پائلٹ (یا پائلٹس) ایجکٹ ہو گئے۔ یہ رپورٹ آزاد طور پر تصدیق شدہ نہیں ہے اور یہ اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع اپنے پانچویں ہفتے میں داخل ہو چکا ہے، دونوں طرف سے فضائی حملے اور جوابی کارروائیاں جاری ہیں۔
واقعہ کی پہلی اطلاع کوہگلویہ اور بوئیر احمد صوبے کے ایک علاقائی ایرانی سرکاری ٹی وی چینل نے دی، جو جنوب مغربی ایران کا ایک دیہی اور پہاڑی علاقہ ہے۔ ایرانی میڈیا نے طیارے کی شناخت میں تضاد کیا — کچھ نے اسے F-15E سٹرائیک ایگل (امریکی فضائیہ کا دو سیٹوں والا سٹرائیک لڑاکا طیارہ، جو مبینہ طور پر برطانیہ کے RAF لیکن ہیتھ میں واقع 494ویں فائٹر اسکواڈرن سے تعلق رکھتا ہے) قرار دیا، جبکہ کچھ نے F-35 سٹیلتھ جیٹ بتایا۔ بعض ذرائع نے اسے اسلامک انقلابی گارڈ کور (IRGC) سے منسلک کیا، جن کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے جدید فضائی دفاعی نظام سے طیارے کو مار گرایا۔
ایرانی میڈیا کا ردعمل اور عوام سے اپیل
ایرانی سرکاری ٹی وی نے عوام سے ڈرامائی اپیل کی۔ چینل کے اینکر نے اعلان کیا:
"اگر آپ دشمن پائلٹ یا پائلٹس کو زندہ پکڑ کر پولیس یا فوجی دستوں کے حوالے کریں تو آپ کو قیمتی انعام یا انعامی رقم ملے گی۔”
ایک آن اسکرین ٹیکسٹ کرال میں ناظرین کو "اگر دیکھیں تو انہیں گولی مار دیں” کہا گیا۔ بعد میں ایرانی مسلح افواج نے پیغامات جاری کیے کہ اگر کوئی پائلٹ گرفتار ہو جائے تو اس کے ساتھ بدسلوکی نہ کی جائے۔
ایران کے سرکاری براڈکاسٹر IRIB نے X (سابقہ ٹوئٹر) پر پوسٹ کیا کہ طیارے کے کریش سائٹ کی طرف نجی کاروں میں شہریوں کے ہجوم روانہ ہو گئے ہیں تاکہ پائلٹ کو پکڑنے میں مدد کی جا سکے۔ ویڈیوز اور تصاویر گردش کر رہی ہیں جن میں ایرانی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ طیارے کے ملبے، بشمول ایجکشن سیٹ، پک اپ ٹرکوں پر لوڈ کیے گئے ہیں۔ IRGC اور اس سے منسلک ایجنسیاں جیسے تسنیم، فارس اور مہر نیوز نے بھی ان دعوؤں کو بڑھاوا دیا۔ بعض نے یہ بھی کہا کہ پائلٹ کو گرفتار کر لیا گیا ہے یا شدید دھماکے میں ہلاک ہو گیا۔
امریکی فوج کا ردعمل
امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM)، پینٹاگون اور وائٹ ہاؤس نے 3 اپریل 2026 کی شام تک طیارے کے نقصان کی تفصیلی تصدیق یا تردید نہیں کی۔ تاہم، متعدد امریکی حکام اور رپورٹس کے مطابق فوری طور پر سرچ اینڈ ریسکیو (SAR) آپریشن شروع کر دیا گیا۔ اس میں ایک C-130 طیارہ اور کم از کم دو UH-60 بلیک ہاک ہیلی کاپٹرز شامل ہیں۔
کچھ غیر مصدقہ رپورٹس اور سوشل میڈیا پر دعوے ہیں کہ ایک عملے کے رکن کو امریکی افواج نے بچا لیا ہے، جبکہ دوسرے کی صورتحال واضح نہیں۔ ایرانی دعوے کہ پائلٹ کو گرفتار کر لیا گیا یا ریسکیو ہیلی کاپٹر کو مار گرایا گیا، ابھی تک تصدیق شدہ نہیں اور تجزیہ کار انہیں شک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں، کیونکہ تہران نے اس تنازع کے دوران ایسے جھوٹے دعوے کئی بار کیے ہیں۔
متضاد بیانات اور پس منظر
- طیارے کی قسم: رپورٹس F-15E سٹرائیک ایگل (دو ارکان: پائلٹ اور ہتھیار سسٹم آفیسر) اور F-35 کے درمیان گھوم رہی ہیں۔ F-15E حملوں کے لیے ثابت شدہ طیارہ ہے جبکہ F-35 سٹیلتھ پلیٹ فارم ہے۔ امریکی طرف سے مخصوص طیارے کی کوئی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی۔
- وجہ: ایرانی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ IRGC کی فضائی دفاعی نظام نے مار گرایا۔ امریکی ذرائع نے وجہ پر کوئی تبصرہ نہیں کیا (سطح سے فضا میں مار کرنے والا میزائل، تکنیکی خرابی یا دیگر وجوہات ہو سکتی ہیں)۔
- مقام: رپورٹ شدہ کریش سائٹ جنوب مغربی ایران کا دور دراز پہاڑی علاقہ ہے، جہاں آزاد تصدیق مشکل ہے۔
یہ موجودہ تنازع میں ایرانی علاقے پر امریکی manned لڑاکا طیارے کا پہلا تصدیق شدہ نقصان ہو سکتا ہے، جو فروری 2026 کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کے بڑے حملوں سے شروع ہوا تھا۔ ایران نے علاقائی ہدفوں پر میزائل اور ڈرون حملے جاری رکھے ہیں، جبکہ امریکہ اور اسرائیل نے ایرانی فوجی اور انفراسٹرکچر ٹارگٹس پر وسیع پیمانے پر حملے کیے۔
یہ واقعہ آبِنائے ہرمز پر بڑھتے تناؤ، تیل کی قیمتوں میں اضافے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں سفارتی کوششوں کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔
جنگ کی وسیع تر صورتحال
جنگ میں بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئیں: ایران میں 1900 سے زائد، اسرائیل اور خلیجی ممالک میں درجنوں، اور کم از کم 13 امریکی فوجی۔ امریکہ اور اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ ایران کی فوجی صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچا، لیکن تہران طاقت کا مظاہرہ کر رہا ہے اور توانائی کے راستوں پر اپنا کنٹرول بطور لیوریج استعمال کر رہا ہے۔
اگر یہ واقعہ تصدیق ہو جائے تو ایران کے لیے بڑی پروپیگنڈا فتح ہو گی، جبکہ امریکی فوج کے لیے آپریشنل اور مورال کے مسائل پیدا کر سکتا ہے۔ یہ متنازع فضائی علاقے میں عملے کے خطرات کو بھی اجاگر کرتا ہے۔
موجودہ صورتحال (3 اپریل 2026 شام تک)
صورتحال انتہائی سیال اور تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر مبینہ ملبے، ایجکشن سیٹس، سائٹ کی طرف جا رہے شہری گاڑیوں اور ہیلی کاپٹر سرگرمی کی غیر مصدقہ ویڈیوز اور تصاویر بھری پڑی ہیں۔ ایران میں محدود رسائی اور جنگ کی دھند کی وجہ سے آزاد تصدیق مشکل ہے۔
امریکی حکام نے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کی تصدیق کی ہے، لیکن عملے کی صورتحال، طیارے کے نقصان یا کسی گرفتاری کی تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئیں۔ CENTCOM نے ماضی میں ایرانی طیارہ گرانے کے دعووں کو مسترد کیا ہے۔
یہ کہانی بڑے امریکہ-ایران تنازع کے ساتھ حقیقی وقت میں سامنے آ رہی ہے۔ پینٹاگون، CENTCOM یا ایرانی حکام سے مزید اپ ڈیٹس جلد متوقع ہیں۔
(نوٹ: یہ رپورٹ دستیاب ذرائع پر مبنی ہے اور نئی معلومات کے ساتھ اپ ڈیٹ ہو سکتی ہے۔)