ڈونلڈ ٹرمپ

ڈونلڈ ٹرمپ کی ذہنی صحت سے متعلق امریکہ میں قیاس آرائیوں کا بازار گرم ، کیا ٹرمپ ایرانی جنگ کے نتیجے میں نفسیاتی مریض بنے ہیں؟

اپریل ۲۰۲۶ کے آغاز تک، صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جو اب ۷۹ سال کے ہو چکے ہیں اور اپنی دوسری مدتِ صدارت میں داخل ہو چکے ہیں، اپنی ذہنی تیز دماغی، علمی چست و چالاک اور مجموعی قائدانہ صلاحیت پر بڑھتی ہوئی عوامی تنقید کا سامنا کر رہے ہیں۔ اگرچہ کوئی سرکاری تشخیصِ ذہنی کمزوری جاری نہیں کی گئی، لیکن سروے عوامی تشویش کو ظاہر کرتے ہیں، جو عوامی تقریروں میں غلطیاں، خاندانی طبی تاریخ اور سیاسی مباحثوں سے مزید بڑھ گئی ہے۔ وائٹ ہاؤس کا موقف ہے کہ ٹرمپ مکمل صحت مند ہیں، لیکن میڈیا اور سیاسی حلقوں میں سوالات برقرار ہیں۔

عوامی تشویش میں اضافہ: سروے کیا کہتے ہیں؟

۲۰۲۵ کے آخر اور ۲۰۲۶ کے شروع میں کیے گئے متعدد سروے بتاتے ہیں کہ امریکہ میں اکثر لوگ ٹرمپ کی ذہنی اور جسمانی صلاحیت پر شکوک رکھتے ہیں:

  • واشنگٹن پوسٹ-اے بی سی نیوز-ایپسوس سروے (فروری ۲۰۲۶) کے مطابق ۵۶ فیصد لوگوں کا کہنا تھا کہ ٹرمپ میں صدارت کے لیے درکار ذہنی تیز دماغی نہیں ہے، جبکہ ۵۱ فیصد نے ان کی جسمانی صحت پر سوال اٹھایا۔ یہ اعداد و شمار پچھلے سرووں سے نمایاں طور پر بڑھے ہیں۔
  • ریٹرز-ایپسوس سروے (فروری ۲۰۲۶) میں ۶۱ فیصد امریکیوں نے اتفاق کیا کہ ٹرمپ عمر کے ساتھ ساتھ غیر مستقل مزاج (erratic) ہوتے جا رہے ہیں، جن میں ۳۰ فیصد ری پبلکن بھی شامل ہیں۔ صرف ۴۵ فیصد نے انہیں “ذہنی طور پر تیز اور چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے قابل” قرار دیا، جو ستمبر ۲۰۲۳ کے ۵۴ فیصد سے کم ہے۔
  • پیو ریسرچ سینٹر سروے (جنوری ۲۰۲۶) کے مطابق ٹرمپ کی ذہنی فٹنس پر اعتماد صرف ۳۲-۳۴ فیصد تک رہ گیا، جبکہ ری پبلکنز میں بھی یہ حمایت پچھلے سالوں سے کم ہوئی (ایک پیمائش میں ۶۶ فیصد)۔ تقریباً آدھے امریکیوں نے ان کی ذہنی یا جسمانی فٹنس پر کم یا کوئی اعتماد ظاہر نہیں کیا۔
  • یوگوو سروے کے مطابق تقریباً ۴۹ فیصد امریکیوں کا خیال ہے کہ ٹرمپ کو کسی نہ کسی درجے کی علمی زوال (cognitive decline) کا سامنا ہے۔

یہ اعداد و شمار جو بائیڈن کی ۲۰۲۴ کی ریٹائرمنٹ کا باعث بنے تھے، ٹرمپ کے کیس میں ان کی حمایت کرنے والوں میں نسبتاً کم اثر دکھاتے ہیں، لیکن مجموعی طور پر تشویش بڑھ رہی ہے۔ ناقدین انہیں عمر سے متعلق فٹنس کا مسئلہ قرار دیتے ہیں، جبکہ حامی انہیں تعصب پر مبنی سمجھتے ہیں۔

علمی زوال کی قیاس آرائیاں اور مشاہدات

سابق ساتھیوں، ماہرین نفسیات اور مبصرین نے کئی عوامی واقعات کو ممکنہ زوال کی نشانی قرار دیا ہے:

  • زبانی غلطیاں اور الجھنیں: مارچ ۲۰۲۶ میں ویمنز ہسٹری مہینے کے ایک پروگرام میں ٹرمپ نے اپنی موجودہ پریس سیکریٹری کارولین لیویٹ کو “کیلی این” کہہ دیا (شاید سابق مشیرہ کیلی این کنوے سے الجھن)۔ دیگر واقعات میں گرین لینڈ کو آئس لینڈ کہنا، لمبی بے ترتیب باتیں، الفاظ بھول جانا، اور کبھی کبھار تقریر میں رکاوٹ شامل ہیں۔
  • جسمانی مشاہدات: میٹنگز میں سو جانا، کم پروگرامز کی درخواست، جسم پر زخم یا سوجن، اور گردن پر دانے (ڈاکٹر کے مطابق کریم سے علاج)۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے ڈاکٹر کی ہدایت کے خلاف زیادہ اسپرین لینے کا اعتراف کیا اور جدید امیجنگ (سی ٹی اسکین یا ایم آر آئی) کے نارمل نتائج کا ذکر کیا۔
  • خاندانی تاریخ: ٹرمپ کے والد فریڈ ٹرمپ کو الزائمر کی بیماری تھی، جو وراثتی خطرے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

کچھ ماہرین نفسیات (جیسے “مالیگننٹ نارسیزم” کے ساتھ ممکنہ ڈیمنشیا یا فرنٹو ٹیمپورل ڈیمنشیا) نے دور سے تجزیے پیش کیے ہیں — حالانکہ یہ امریکن سائیکاٹرک ایسوسی ایشن کے گولڈ واٹر رول کی خلاف ورزی ہے، جو بغیر ذاتی معائنے کے عوامی شخصیات کی تشخیص کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔ سابق وائٹ ہاؤس وکیل ٹائی کوب نے ٹرمپ کی مزاج اور دیر رات سوشل میڈیا سرگرمی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ٹرمپ نے بار بار جواب دیا ہے کہ ان کی انرجی بہت زیادہ ہے اور وہ “پچھلے ۲۵ سال سے زیادہ تیز دماغ” ہیں۔ وہ خود کو “مکمل صحت مند” قرار دیتے ہیں اور علمی ٹیسٹ پاس کرنے پر زور دیتے ہیں۔

مونٹریال علمی تشخیص (MoCA) اور ٹرمپ کے دعوے

ٹرمپ اکثر مونٹریال کاغنٹو ایویلیویشن (MoCA) کا حوالہ دیتے ہیں، جو ہلکے علمی کمزوری کی ۱۰-۱۵ منٹ کی اسکریننگ ٹیسٹ ہے۔ اس میں جانوروں کے نام، گھڑی بنانا، الفاظ یاد رکھنا اور بنیادی سمت کا پتہ لگانا شامل ہے۔ مکمل سکور ۳۰/۳۰ ہے؛ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے ۲۰۱۸، ۲۰۲۵ اور ممکنہ طور پر ۲۰۲۶ میں ۳۰/۳۰ سکور کیا۔

ناقدین کہتے ہیں کہ MoCA صرف بنیادی اسکریننگ ہے، نہ کہ جامع آئی کیو، قابلیت یا ڈیمنشیا کی تشخیص۔ یہ باریک زوال کو نظر انداز کر سکتی ہے، اور اس کے سوالات کی عوامی بحث سے اس کی حساسیت کم ہو سکتی ہے۔ ٹرمپ نے کبھی کبھار اسے زیادہ مشکل قرار دیا ہے (جیسے “مشکل ریاضی کے سوالات” جو ٹیسٹ میں نہیں ہوتے)۔ ان کے ڈاکٹرز، جن میں ڈاکٹر شان باربیلا شامل ہیں، ان کی مجموعی صحت کو بہترین قرار دیتے ہیں، دل کی دھڑکن اور وزن (تقریباً ۲۲۴ پاؤنڈ) عمر سے کم دکھائی دیتے ہیں، اور امیجنگ میں کوئی غیر معمولی بات نہیں ملی۔

وائٹ ہاؤس کا جواب اور سرکاری صحت اپ ڈیٹس

وائٹ ہاؤس کے ڈاکٹر نے میمو جاری کر کے ٹرمپ کی صحت کی تصدیق کی ہے، جس میں نارمل علمی نتائج اور مضبوط جسمانی میٹرکس (جیسے دل کی دھڑکن ۶۲) شامل ہیں۔ ٹرمپ نے سی ٹی اسکین اور دیگر ٹیسٹ کروائے ہیں، جو ان کے مطابق “پرفیکٹ” آئے۔ انہوں نے تشویش کو “فیک نیوز” قرار دیا اور اپنی سٹیمنا کو سابق صدور سے بہتر بتایا۔

۲۵ویں ترمیم کے تحت کوئی سنجیدہ بحث نہیں چلی، اگرچہ ناقدین نے کبھی کبھار اس کا مطالبہ کیا ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ کی ذہنی صحت اور نشہ کی پالیسیاں

دلچسپ بات یہ ہے کہ ذاتی فٹنس پر سوالات کے باوجود انتظامیہ نے وسیع پیمانے پر ذہنی صحت اور نشہ کے مسائل پر اقدامات کیے ہیں:

  • جنوری ۲۰۲۶ میں سبسٹنس ایبیوز اینڈ مینٹل ہیلتھ سروسز ایڈمنسٹریشن (SAMHSA) نے ذہنی صحت، نشہ کے علاج، سکول پروگرامز اور ریکوری سپورٹ کے تقریباً ۲ بلین ڈالر کے ہزاروں گرانٹس فوری طور پر ختم کر دیے، جو انتظامی ترجیحات سے مطابقت نہ رکھنے کا کہا گیا۔ اس سے افراتفری مچی اور عوامی ردعمل کے بعد ۲۴-۴۸ گھنٹوں میں زیادہ تر گرانٹس بحال کر دیے گئے۔ ہیلتھ سیکریٹری رابرٹ ایف کینیڈی جونیئر اس واپسی میں ملوث تھے۔
  • جنوری ۲۰۲۶ کے آخر میں صدر ٹرمپ نے گریٹ امریکن ریکوری انیشی ایٹو کا آغاز کیا، جو حکومت، مذہبی گروپس اور پرائیویٹ سیکٹر کے ذریعے نشہ کے خلاف ہم آہنگی پیدا کرتا ہے۔ اس میں SUPPORT ایکٹ کی تجدید اور معاون آؤٹ پیشنٹ ٹریٹمنٹ، ریکوری ہاؤسنگ پر زور دیا گیا۔
  • فروری ۲۰۲۶ میں سیکریٹری کینیڈی نے بے گھر افراد، نشہ اور ذہنی صحت کے انضمام کے لیے ۱۰۰ ملین ڈالر کے نئے پائلٹ گرانٹس (STREETS پروگرام) کا اعلان کیا، ساتھ ہی کمیونٹی مینٹل ہیلتھ سروسز کے لیے بلاک گرانٹس۔

یہ اقدامات قانون کی حکمرانی، روک تھام اور ریکوری پر مبنی ہیں، جو “میک امریکہ ہیلتھی اگین” تھیم سے مطابقت رکھتے ہیں، اگرچہ ابتدائی فنڈنگ کی رکاوٹ پر تنقید بھی ہوئی۔

وسیع تناظر اور جاری بحث

صدارتی ذہنی فٹنس پر سوالات غیر جانبدار نہیں — بائیڈن کے آخری سالوں میں بھی اسی طرح کی تنقید ہوئی تھی۔ ۷۰ کی دہائی کے آخر میں عمر سے متعلق تبدیلیاں (جیسے الفاظ بھولنا یا کم سٹیمنا) عام ہیں، لیکن صدارت کی ذمہ داریاں انہیں نمایاں کر دیتی ہیں۔ میڈیا کوریج اکثر پارٹی لائنز پر تقسیم ہو جاتی ہے: ناقدین ویڈیوز اور واقعات کو زوال کا ثبوت قرار دیتے ہیں، جبکہ حامی انہیں نارمل عمر رسیدگی یا میڈیا تعصب سمجھتے ہیں۔

جون ۲۰۲۶ میں ۸۰ سال کی طرف بڑھتے ہوئے ٹرمپ پر یہ بحثیں مزید شدت اختیار کر سکتی ہیں، خاص طور پر بڑی پالیسی چیلنجز کے درمیان۔ وائٹ ہاؤس طاقت اور جوش کا مظاہرہ جاری رکھے ہوئے ہے، لیکن عوامی سروے اعتماد میں کمی دکھاتے ہیں۔

تازہ ترین اپ ڈیٹس کے لیے ریٹرز، واشنگٹن پوسٹ، یا وائٹ ہاؤس کی آفیشل ریلیز دیکھیں، کیونکہ خبریں تیزی سے بدلتی رہتی ہیں۔ اگر آپ کسی مخصوص سروے، واقعے، پالیسی یا ماضی کے صدور سے موازنہ چاہتے ہیں تو مزید تفصیلات بتائیں۔

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے