بالی ووڈ کے معروف اداکار سیف علی خان، جو پٹودی کے شاہی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، اپنی وراثتی جائیداد کے حوالے سے ایک طویل قانونی تنازع کی وجہ سے خبروں میں ہیں۔ یہ تنازع ان کے نانا، بھوپال کے آخری نواب حمید اللہ خان کی جائیداد سے متعلق ہے، جس کی مالیت تقریباً 15 ہزار کروڑ بھارتی روپے (تقریباً 1.83 بلین امریکی ڈالر یا 512 ارب پاکستانی روپے) ہے۔ اس جائیداد پر ’اینیمی پراپرٹی ایکٹ 1968ء‘ کے تحت بھارتی حکومت کے دعوے نے سیف علی خان اور ان کے خاندان کو ایک مشکل صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے حال ہی میں اس معاملے پر ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے ایک سال کے اندر حتمی فیصلے کا حکم دیا ہے۔ یہ مضمون اس تنازع کی تاریخی جڑوں، قانونی پہلوؤں، عدالت کے حالیہ فیصلے، اور اس کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لیتا ہے۔
تنازع کی تاریخی جڑیں
اس تنازع کی بنیاد تقسیم ہند کے بعد کے حالات میں ہے، جب بھوپال کے آخری نواب حمید اللہ خان کی تین بیٹیوں—عابدہ سلطان، ساجدہ سلطان، اور رابعہ سلطان—کے درمیان ان کی جائیداد کی وراثت کا سوال اٹھا۔ نواب حمید اللہ خان کا انتقال 1960 میں ہوا، اور ان کی جائیداد ان کی بیٹیوں کے حصے میں آئی۔ تاہم، سب سے بڑی بیٹی، عابدہ سلطان، نے 1950 میں پاکستان ہجرت کر لی اور بھارتی شہریت ترک کر دی۔ عابدہ سلطان پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین شہریار خان کی والدہ تھیں۔ ان کی ہجرت کی وجہ سے ان کی جائیداد کو ’اینیمی پراپرٹی ایکٹ 1968ء‘ کے تحت ’دشمن جائیداد‘ قرار دیا گیا۔
دوسری طرف، نواب کی دوسری بیٹی، ساجدہ سلطان، بھارت میں رہیں اور پٹودی کے نواب افتخار علی خان سے شادی کی۔ ان کے بیٹے منصور علی خان پٹودی، اور پھر ان کے پوتے سیف علی خان اس جائیداد کے قانونی وارث بنے۔ اس جائیداد میں فلیگ سٹاف ہاؤس (جہاں سیف نے اپنا بچپن گزارا)، نور الصباح پیلس، دارالسلام، حبیبی بنگلہ، احمد آباد پیلس، اور کوہِ فضا پراپرٹی جیسی قیمتی املاک شامل ہیں۔
اینیمی پراپرٹی ایکٹ 1968ء: ایک جائزہ
’اینیمی پراپرٹی ایکٹ 1968ء‘ بھارت اور پاکستان کے درمیان 1965 کی جنگ کے بعد نافذ کیا گیا تھا۔ اس قانون کا مقصد ان جائیدادوں پر کنٹرول حاصل کرنا تھا جو ان افراد کی ملکیت تھیں جو پاکستان یا چین ہجرت کر گئے تھے۔ اس ایکٹ کے تحت، ایسی جائیدادیں ’دشمن جائیداد‘ قرار دی جاتی ہیں اور ان کا انتظام ’کسٹوڈین آف اینیمی پراپرٹی فار انڈیا‘ کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ 2017 میں اس ایکٹ میں ترامیم کی گئیں، جنہوں نے قانون کو مزید سخت کر دیا۔ ان ترامیم کے مطابق:
- ’دشمن جائیداد‘ کی تعریف کو وسعت دی گئی، جس میں قانونی وارثوں اور جانشینوں کو بھی شامل کیا گیا، چاہے ان کی شہریت کچھ بھی ہو۔
- ایسی جائیدادوں پر وراثت Ascending
- یہ جائیدادیں غیر معینہ مدت تک حکومتی کنٹرول میں رہتی ہیں، یہاں تک کہ اگر مالک کی موت یا کاروبار کی بندش کی وجہ سے اثاثوں کا وجود ختم ہو جائے۔
ان ترامیم نے سیف علی خان کے دعوے کو کمزور کیا، کیونکہ عابدہ سلطان کی ہجرت کی وجہ سے جائیداد کو ’دشمن جائیداد‘ قرار دیا گیا، حالانکہ اس کا ایک حصہ ساجدہ سلطان کے ذریعے سیف کے خاندان کو منتقل ہوا تھا۔
قانونی جنگ کا سفر
یہ تنازع 2015 میں اس وقت دوبارہ سر اٹھایا جب ’کسٹوڈین آف اینیمی پراپرٹی فار انڈیا‘ نے بھوپال کی ان جائیدادوں کو باضابطہ طور پر ’دشمن جائیداد‘ قرار دیا۔ سیف علی خان نے اس فیصلے کے خلاف مدھیہ پردیش ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی اور 2015 میں ایک حکم امتناع (اسٹے آرڈر) حاصل کیا، جس نے حکومتی قبضے کو عارضی طور پر روک دیا۔ تاہم، 13 دسمبر 2024 کو، مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے اس حکم امتناع کو ختم کر دیا اور سیف کی اپیل مسترد کر دی۔ عدالت نے فریقین کو 30 دن کے اندر نمائندگی دائر کرنے کی ہدایت دی، لیکن کوئی اپیل دائر نہ ہونے پر معاملہ آگے بڑھا۔
2025 میں، جسٹس وویک اگروال کی سربراہی میں ہائی کورٹ نے حکم دیا کہ اینیمی پراپرٹی ایکٹ کے تحت جائیداد کی ملکیت کا جائزہ لینے کے لیے ایک سال کی مدت دی جائے گی۔ عدالت نے کہا کہ اگر 30 دن کے اندر نمائندگی پیش کی جاتی ہے، تو اپیل اتھارٹی معاملے کو میرٹ کی بنیاد پر حل کرے گی، بغیر وقت کی پابندی کے۔ سیف کے وکلاء کا موقف ہے کہ چونکہ یہ جائیداد ساجدہ سلطان کی تھی، جو بھارت میں رہیں، اس لیے اسے ’دشمن جائیداد‘ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ تاہم، 2017 کی ترامیم نے وراثت کے دعوؤں کو مشکل بنا دیا ہے۔
عدالت کا حالیہ فیصلہ
مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے 2025 کے فیصلے نے پٹودی خاندان کے لیے ایک بڑا دھچکا لگایا ہے۔ عدالت نے نہ صرف 2015 کا حکم امتناع ختم کیا بلکہ اینیمی پراپرٹی ایکٹ کے تحت جائیداد کی درجہ بندی کو برقرار رکھا۔ تاہم، عدالت نے ایک سال کی مدت دی ہے، جس کے دوران متعلقہ فریقین اپیل دائر کر سکتے ہیں۔ جسٹس وویک اگروال نے واضح کیا کہ اگر اپیل دائر کی جاتی ہے، تو اسے میرٹ پر دیکھا جائے گا، اور فیصلہ ایک سال کے اندر سنایا جائے گا۔ ایکس پر پوسٹس کے مطابق، عدالت نے جائیداد کو ’دشمن جائیداد‘ قرار دیا ہے، لیکن حتمی فیصلہ جائزہ مدت کے بعد ہوگا۔
جائیداد کی تفصیلات
اس تنازع میں شامل جائیدادیں بھوپال اور ہریانہ میں پھیلی ہوئی ہیں اور ان کی مجموعی مالیت 15 ہزار کروڑ روپے ہے۔ ان میں شامل ہیں:
- فلیگ سٹاف ہاؤس: سیف علی خان کی بچپن کی رہائش گاہ، جو پٹودی خاندان کے لیے تاریخی اہمیت رکھتی ہے۔
- نور الصباح پیلس: ایک پرتعیش ہوٹل، جو سیاحوں کے لیے ایک اہم مقام ہے۔
- دارالسلام، حبیبی بنگلہ، احمد آباد پیلس، اور کوہِ فضا پراپرٹی: یہ دیگر قیمتی املاک ہیں جو نواب حمید اللہ خان کی وراثت کا حصہ ہیں۔
یہ جائیدادیں نہ صرف مالی لحاظ سے قیمتی ہیں بلکہ پٹودی خاندان کی تاریخی اور ثقافتی وراثت کا بھی حصہ ہیں۔
ممکنہ اثرات
سیف علی خان اور پٹودی خاندان پر اثرات
اس فیصلے سے سیف علی خان اور ان کے خاندان کو نہ صرف مالی نقصان کا خطرہ ہے بلکہ ان کی شاہی وراثت کے تحفظ کا سوال بھی اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ اگر عدالت حتمی طور پر جائیداد کو ’دشمن جائیداد‘ قرار دیتی ہے، تو یہ املاک بھارتی حکومت کے کنٹرول میں چلی جائیں گی، اور پٹودی خاندان اپنی تاریخی جائیداد سے محروم ہو جائے گا۔ سیف کے وکلاء اب بھی اپیل کے مواقع تلاش کر رہے ہیں، لیکن 2017 کی ترامیم نے ان کے دعوے کو کمزور کر دیا ہے۔
رہائشیوں پر اثرات
بھوپال میں ان جائیدادوں پر رہنے والے تقریباً 1.5 لاکھ افراد کو بے دخلی کا خطرہ ہے۔ بھوپال کے کلکٹر کوشلندر وکرم سنگھ نے اعلان کیا ہے کہ گزشتہ 72 سال کے ملکیتی ریکارڈز کا جائزہ لیا جائے گا، اور رہائشیوں کو کرایہ دار سمجھا جا سکتا ہے۔ ایک رہائشی، سمر خان، نے ایکس پر کہا کہ ’اسٹے کو ختم کر دیا گیا ہے، لیکن ان املاک کو اینیمی پراپرٹی ایکٹ کے تحت ضم کرنا پیچیدہ ہے۔ پٹودی خاندان کے پاس اب بھی اپیل کا موقع ہے۔‘
سماجی اور سیاسی اثرات
یہ تنازع بھارت اور پاکستان کے درمیان تاریخی کشیدگی کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ ’اینیمی پراپرٹی ایکٹ‘ کو کئی حلقوں میں تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، کیونکہ اسے تقسیم کے زخموں کو تازہ کرنے والا قانون سمجھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، اس فیصلے سے بھوپال کے شاہی خاندان کی وراثت اور شناخت پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔
سیف علی خان کا موقف
سیف علی خان اور ان کے وکلاء کا موقف ہے کہ یہ جائیداد ساجدہ سلطان کے ذریعے ان کے خاندان کو ملی، جو بھارت کی شہری تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ چونکہ جائیداد بھارت میں ہے اور اس کا تعلق بھارتی شہریوں سے ہے، اسے ’دشمن جائیداد‘ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ تاہم، 2017 کی ترامیم نے اس دلیل کو کمزور کر دیا ہے، کیونکہ قانون اب قانونی وارثوں کی شہریت کو نظر انداز کرتا ہے اگر اصل مالک ’دشمن ملک‘ سے تعلق رکھتا ہو۔
مستقبل کے امکانات
مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے اس معاملے کو ایک سال کے اندر حل کرنے کا حکم دیا ہے، جو سیف علی خان اور پٹودی خاندان کے لیے ایک اہم موقع ہے۔ وہ اس مدت کے دوران اپیل دائر کر سکتے ہیں اور اپنے دعوے کو مضبوط کرنے کے لیے نئے شواہد پیش کر سکتے ہیں۔ تاہم، اگر وہ اپیل میں ناکام رہتے ہیں، تو یہ جائیداد مکمل طور پر حکومتی کنٹرول میں چلی جائے گی۔ بھوپال کے کلکٹر کی جانب سے ملکیتی ریکارڈز کی جانچ اور رہائشیوں کو کرایہ دار قرار دینے کا عمل بھی جاری ہے، جو اس تنازع کی پیچیدگی کو بڑھا رہا ہے۔
نتیجہ
سیف علی خان کی 15 ہزار کروڑ روپے کی جائیداد کا تنازع بھارت کی تاریخ، قانون، اور شاہی وراثت کے ایک پیچیدہ امتزاج کی عکاسی کرتا ہے۔ ’اینیمی پراپرٹی ایکٹ‘ کے تحت یہ جائیداد ’دشمن جائیداد‘ قرار دی گئی ہے، لیکن عدالت نے ایک سال کی مہلت دی ہے، جو اس تنازع کے حل کے لیے آخری موقع ہو سکتا ہے۔ یہ معاملہ نہ صرف سیف علی خان اور پٹودی خاندان کے لیے اہم ہے بلکہ بھوپال کے لاکھوں رہائشیوں کی زندگیوں پر بھی اثر انداز ہوگا۔ اگلے ایک سال میں عدالت کا حتمی فیصلہ اس تاریخی تنازع کا رخ طے کرے گا، جو نہ صرف مالی بلکہ جذباتی اور ثقافتی اہمیت بھی رکھتا ہے۔