علامہ شبلی نعمانیؒ کی بہت بڑی غلطی !
کہتے ہیں ہر بڑے آدمی کی زندگی میں کوئی نہ کوئی بنیادی غلطی ضرور ہوتی ہے۔ بعض وقت سے پہلے بول جاتے ہیں، بعض ضرورت سے زیادہ ایماندار نکل جاتے ہیں، اور چند نادان ایسے بھی ہوتے ہیں جو پوری طاقت سے حقیقت کو سوچنے اور سمجهنے کی جسارت کر بیٹھتے ہیں، شبلی کی سب سے بڑی غلطی یہ تھی کہ وہ اپنے زمانے میں پیدا ہوگئے، ایک ایسا زمانہ جہاں فکر کی گہرائی کو یا تو سمجھا ہی نہیں جاتا یا سمجھنے والے اپنی آنکھیں بند کر کے خوش رہتے ہیں۔
شبلی کی پیدائش اگر تھوڑی دیر سے ہوتی، مثلاً آج کے اس روشن خیال، سوشل میڈیا زدہ اور "انفلوئنسر پسند” دور میں، تو یقیناً وہ ایک مشہور دانشور، مقبول پبلشر یا یوٹیوب چینل کے مالک ہوتے۔ ہر بات کے نیچے "یہی بات ہے!” اور "علم کی روشنی!” جیسے تبصرے آتے، اور لوگ انہیں فالو کرنے میں اپنی اجتماعی دانشمندی کا ثبوت سمجھتے۔ مگر شبلی نے نہ جانے کس معصوم غرور سے، زمانے کی تمام سہولتوں کو نظرانداز کرتے ہوئے اپنی پیدائش کا وقت خود مقرر کر لیا۔
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے نئی اپ ڈیٹ ملے
اگر شبلی کو اپنے زمانے میں رہنا ہی تھا، تو کم از کم ایک چھوٹا سا تخلیقی متبادل تو اختیار کر لیتے، مثلاً کوئی خانقاہ بناتے، محفلیں سجاتے، یا "ملفوظات” کی زبان میں اپنے افکار کا ذائقہ عام کر دیتے۔ تحقیق اور تنقید کے گہرے مضامین کی بجائے چند ہلکے پھلکے قصے، حکایات، مواعظ، فضائل اور دلچسپ اقوال زبان زد عام وخاص كرتے، تب لوگ ان کے پیغام کو سمجھ سکتے اور پسند بھی کر سکتے۔ مگر انہوں نے تحقيقى وادبى کتابوں کا مشکل راستہ اختیار کیا، جس کی بدولت قاری اکثر کانوں پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ گیا یا مضمون کو پڑھتے ہی بھول گیا۔
شبلی بیچارے ایک ایسے زمانے میں آئے جہاں علم کی قدر تو تھی، مگر وہ علم جس کا خواب وہ دیکھتے تھے، مشرق و مغرب دونوں کی تحقیق و تنقید کا امتزاج، سامنے نہیں تھا۔ اس زمانے کے لوگ یا تو ماضی کی گرد کو سینے سے لگائے بیٹھے تھے یا اندھی تقلید میں مغرب کے ہر نئے رجحان کے پیچھے بھاگ رہے تھے۔ شبلی نے درمیانی راہ اختیار کی، جو یقیناً اس زمانے میں ناقابلِ فہم تھی۔ ہمارے معاشرے میں درمیانی راہ نہ تو مقبول ہوتی ہے اور نہ ہی سراہا جاتا ہے؛ دونوں طرف کے لوگ اسے مشکوک یا خطرناک سمجھتے ہیں۔
ان کی تحریریں، جو آج نصاب میں شامل ہیں اور جنہیں طلبہ فرضاً پڑھتے ہیں، اس زمانے کے قارئین کے لیے بالکل بھاری ثابت ہوئیں۔ تحقیق کی گہرائی، زبان کی شائستگی، اور فکر کی وسعت—یہ سب چیزیں عام فہم نہیں ہوتیں۔ لوگ سیدھی سادی بات سننے کے عادی تھے؛ شبلی نے جب دلیل، حوالہ اور تنقیدی شعور کے ساتھ بات پیش کی تو سامعین نے سر کھجانے یا موضوع بدلنے میں عافیت جانی۔
شبلی کا تصورِ تعلیم بھی عجیب تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ طالب علم صرف رٹے نہ لگائیں بلکہ سوچیں، سوال کریں، تحقیق کریں۔ اس زمانے میں تو کامیاب طالب علم وہی سمجھا جاتا تھا جو بغیر سمجھے کتاب ازبر کرلے، اور استاد کی عظمت کا راز صرف یہ تھا کہ وہ سوال پوچھنے والوں سے تنگ ہوں۔ شبلی کا سمجهنا کہ "علم کا مقصد شعور کی بیداری ہے” یقیناً ایک خطرناک خیال تھا، کیونکہ اگر سب سوچنے لگتے تو پھر نظام تعلیم کا سب سے پُراثر اصول—رٹہ، دھونس اور خاموشی— کہاں رہتا؟
پھر ان کا طرزِ تاریخ نگاری بھی لوگوں کے لیے اجنبی تھا۔ وہ تاریخ کو محض قصے کہانی نہیں سمجھتے تھے بلکہ ایک زندہ علم کے طور پر دیکھتے تھے، جس میں تحقیق، تجزیہ اور تنقید لازم تھے۔ مگر اس زمانے کے قارئین بس اتنا چاہتے تھے کہ کوئی بادشاہ آئے، لڑے، جیتے اور مر جائے، کوئی بزرگ ہوا میں اُڑے، پانی پر چلے، خضر سے ملاقات كرے، اور کرامات دكهائے—اور بس، کہانی اختتام پذیر ہو جائے! شبلی نے جب اس سادگی میں پیچیدگی پیدا کی تو لوگ سمجھ گئے کہ یہ صاحب بلاوجہ بات کو مشکل بنا رہے ہیں۔
شبلی کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ تھی کہ وہ اپنے زمانے سے دو قدم آگے چل رہے تھے۔ ہمارے معاشرے میں جو آگے نکل جائے، اسے یا تو پاگل قرار دے دیا جاتا ہے یا پھر نظرانداز کیا جاتا ہے۔ شبلی کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ ان کی آواز گونجتی رہی، مگر سننے والے کان ابھی تیار نہ تھے۔
آج، جب ہم "ریسرچ”، "کریٹیکل تھنکنگ” اور "انٹرڈسپلنری اسٹڈیز” جیسے الفاظ بڑے فخر سے استعمال کرتے ہیں، تو کہیں نہ کہیں شبلی کی روح ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہتی ہوگی: "اب سمجھ آئى میری بات؟” فرق صرف یہ ہے کہ ہم اب اس شعور کی قدر کرتے ہیں لیکن اسے اپنی دریافت سمجھ کر آگے بڑھاتے ہیں، جبکہ اصل دانشور ابھی بھی کہیں کہیں خاموشی سے کانپ رہا ہے کہ آخر کب لوگ اس کی بات سمجھیں گے۔
یوں دیکھا جائے تو شبلی نے کوئی غلطی نہیں کی تھی؛ غلطی تو زمانے کی تھی، جو ان کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر نہیں چل سکا۔ مگر چونکہ تاریخ ہمیشہ بڑے لوگوں سے معذرت کرنے کی عادت نہیں رکھتی، اس لیے ہم بڑی سہولت سے کہتے ہیں: "شبلی کی غلطی یہی تھی کہ وہ وقت سے پہلے پیدا ہوگئے۔”
اور سچ پوچھیے تو یہ غلطی آج بھی جاری ہے—فرق صرف یہ ہے کہ پہلے ایسے لوگوں کو پاگل کہا جاتا تھا، پھر نظرانداز کیا گیا، اور اب انہیں پڑھے بغیر ادب و احترام کے ساتھ سراہا جاتا ہے
مزید خبریں:
ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف
امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی