زوہران ممدانی کی شہریت منسوخی کا مطالبہ: ریپبلکنز نے ٹرمپ سے نیویارک کے نومنتخب میئر کو ملک بدر کرنے کی اپیل کردی
نیویارک سٹی کے میئر کے لیے ڈیموکریٹک پرائمری جیتنے والے زوہران ممدانی کے خلاف ریپبلکن پارٹی کی قیادت اور دائیں بازو کے انتہا پسند حلقے سخت ردِعمل ظاہر کر رہے ہیں۔ نیویارک ینگ ریپبلکن کلب (NYYRC) اور کئی ریپبلکن رہنما سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ ممدانی کی امریکی شہریت منسوخ کریں اور انہیں ملک بدر کر دیں۔ ان کے بقول، ممدانی کا "انتہا پسند سوشلسٹ نظریہ” اور امیگریشن و خارجہ پالیسی پر مؤقف امریکا کی "اقدار اور سیکیورٹی کے لیے خطرہ” ہے۔
زوہران ممدانی کون ہیں؟
زوہران ممدانی 33 سالہ یوگنڈا میں پیدا ہونے والے مسلمان ہیں، جو بچپن میں نیویارک منتقل ہوئے اور 2018 میں امریکی شہریت حاصل کی۔ وہ ایک فلم ساز، سیاسی کارکن اور ڈیموکریٹک سوشلسٹ ہیں جنہوں نے نیویارک اسٹیٹ اسمبلی میں خدمات انجام دیں۔ 2025 کے پرائمری انتخابات میں انہوں نے سابق گورنر اینڈریو کومو کو شکست دی، اور نیویارک کے میئر کے لیے ڈیموکریٹک امیدوار نامزد ہوئے۔
ان کے منشور میں کرایوں کو منجمد کرنا، مفت پبلک بس سروس، سرکاری گروسری اسٹورز، اور امیروں و کارپوریٹ اداروں پر 10 ارب ڈالر کا اضافی ٹیکس شامل ہے۔
ریپبلکن ردعمل اور الزامات
1. کمیونسٹ کنٹرول ایکٹ کا حوالہ
NYYRC نے 1954 کے کمیونسٹ کنٹرول ایکٹ کا حوالہ دے کر ممدانی کی شہریت منسوخ کرنے کی تجویز دی۔ یہ ایکٹ اگرچہ قانونی طور پر کمزور ہو چکا ہے، مگر ریپبلکن حلقے اسے ممدانی جیسے بائیں بازو کے سیاست دانوں کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل” پر ممدانی کو "100 فیصد کمیونسٹ پاگل” قرار دیا۔
2. امیگریشن اور ICE پر مؤقف
ممدانی نے نیویارک کو حقیقی "پناہ گزین شہر” (Sanctuary City) بنانے اور ICE (امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ) کو شہر سے نکالنے کا وعدہ کیا، جس پر ریپبلکن سخت برہم ہیں۔
ٹرمپ کے امیگریشن مشیر ٹام ہومین نے کہا: "یہ ہمارا دائرہ اختیار ہے، اور ہم ICE کو دوگنا کریں گے۔ یہ جنگ ہے۔”
3. انتہا پسندی اور یہود دشمنی کے الزامات
ریپبلکن رکن کانگریس اینڈی اوگلز نے الزام عائد کیا کہ ممدانی نے 2017 میں ایک ریپ گیت میں "ہولی لینڈ فائیو” (ایسے افراد جن پر حماس کو فنڈنگ کا الزام ہے) کا ذکر کیا، جو ان کے بقول دہشتگردی سے ہمدردی ظاہر کرتا ہے۔ اوگلز نے وزارتِ انصاف سے مطالبہ کیا کہ ممدانی کی شہریت کے عمل کی تفتیش کی جائے۔
اسی طرح ممدانی کا اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو نیویارک آمد پر گرفتار کرنے کا اعلان—انٹرنیشنل کریمنل کورٹ کے وارنٹ کی بنیاد پر—بھی تنازعے کا باعث بنا۔ ریپبلکن رہنما ایلیس اسٹیفانک اور تجزیہ کار لورا لوومر نے ممدانی کو یہود دشمن قرار دیا اور ان کی قیادت کو "دوسرے نائن الیون” سے تشبیہ دی۔
4. شہریت اور ’امریکی شناخت‘ پر سوالات
ممدانی کی صرف سات سالہ شہریت کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ریپبلکن کونسلر وکی پالادینو نے کہا: "یہ پاگل پن ہے کہ ایک ایسا شخص جسے ابھی حال ہی میں شہریت ملی، نیویارک کا میئر بننے جا رہا ہے۔”
یہ مؤقف سابق صدر ٹرمپ کی ماضی کی "برتھ سرٹیفکیٹ” مہم کی یاد دلاتا ہے، جس میں اوباما کی شہریت پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔
5. سیاسی حکمت عملی اور خوف پر مبنی بیانیہ
تجزیہ کاروں کے مطابق، ریپبلکنز ممدانی کو بطور علامت استعمال کر رہے ہیں تاکہ ڈیموکریٹک پارٹی کو "انتہا پسند” قرار دیا جا سکے۔ اس کا مقصد دائیں بازو کے ووٹرز کو متحرک کرنا اور امیگریشن مخالف ایجنڈے کو تقویت دینا ہے۔
اسٹیفن ملر نے کہا: "یہ عظیم تبدیلی (Great Replacement) حقیقت بن چکی ہے۔ اگر اب نہ لڑے تو ملک کھو بیٹھیں گے۔”
قانونی حیثیت: کیا شہریت منسوخ ہو سکتی ہے؟
ماہرین کے مطابق ممدانی کی شہریت منسوخ کرنا تقریباً ناممکن ہے، کیونکہ:
- سیاسی نظریات پر شہریت منسوخ کرنا آئین کی پہلی ترمیم کی خلاف ورزی ہے۔
- کمیونسٹ کنٹرول ایکٹ کو متعدد عدالتیں ناقابلِ عمل قرار دے چکی ہیں۔
- شہریت منسوخی صرف تب ممکن ہے جب فریب یا غیرقانونی طریقہ اختیار کیا گیا ہو—جس کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔
ممدانی کا مؤقف
زوہران ممدانی نے ان الزامات کو "آمریت پر مبنی سیاسی چالیں” قرار دیا۔ ان کے مطابق:
"یہ حملے میری ذات پر نہیں، بلکہ اس تحریک پر ہیں جو محنت کشوں، مہاجرین اور عام شہریوں کی نمائندہ ہے۔”
انہوں نے کہا، "ہمیں تقسیم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، لیکن نیویارک ہم سب کا ہے—چاہے کوئی کہاں سے بھی آیا ہو۔”
نتیجہ
زوہران ممدانی کے خلاف مہم اس بات کی علامت ہے کہ امریکا میں سیاست شناخت، نظریہ اور قوم پرستی کی بنیاد پر مزید منقسم ہو چکی ہے۔ ان کی شہریت منسوخی کا مطالبہ قانونی لحاظ سے کمزور ہے، لیکن سیاسی میدان میں یہ ایک پرزور ہتھیار کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ نومبر 2025 کے عام انتخابات میں نیویارک کے ووٹر اس بیانیے کا کیا جواب دیتے ہیں—کیا وہ ممدانی کے ترقی پسند وژن کو اپناتے ہیں یا خوف کی سیاست کو۔
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں
مزید خبریں: