جوہری تنصیبات پر حملہ

جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں سے کوئی تابکاری نہیں ہوئی ہے: حکومت ایران

ایران نے واضح کیا ہے کہ امریکی فضائی حملے کے بعد قم شہر اور اردگرد کے علاقوں کے مکینوں کو کسی قسم کا خطرہ لاحق نہیں۔ فرردو کی جوہری تنصیب کے آس پاس تابکاری کے پھیلاؤ کے کوئی شواہد نہیں ملے۔

قم میں کرائسز منیجمنٹ کمیٹی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ "یورینیم کی افزودگی کے لیے قائم فردو تنصیب کے آس پاس کے علاقوں میں شہریوں کو کسی بھی قسم کے خطرے کا سامنا نہیں”۔ ایران کے قومی جوہری سلامتی کے مرکز نے جو ایرانی جوہری توانائی تنظیم کے تحت کام کرتا ہے، بھی تصدیق کی ہے کہ "تابکاری کے اثرات کی کوئی علامات ریکارڈ پر نہیں آئیں۔ اس لیے آس پاس کے رہائشیوں کو کسی خطرے کا سامنا نہیں”۔

قم سے تعلق رکھنے والے ایرانی رکنِ پارلیمنٹ نے بھی امریکی حملے کے بعد ابتدائی تحقیقاتی نتائج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ "ہم نے فوری جانچ کی ہے اور گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ امریکی حملے کے نتیجے میں کسی قسم کی تابکاری سامنے نہیں آئی، اور زیرِ زمین تنصیبات کو کوئی نقصان نہیں پہنچا”۔

انہوں نے مزید بتایا کہ "فرردو میں زیادہ تر نقصان زمین کے سطحی حصے پر ہوا ہے، جو کہ قابلِ مرمت ہے”۔

اسی دوران ایرانی جوہری توانائی تنظیم نے دوبارہ یقین دہانی کروائی ہے کہ "جوہری تنصیبات کے اردگرد رہنے والے شہریوں کو کسی قسم کا خطرہ لاحق نہیں۔”

اس سے قبل جاری کردہ ایک سرکاری بیان میں تنظیم نے واضح کیا تھا کہ "دشمنوں کی بدنیتی پر مبنی سازشوں کے باوجود ایران اپنی قومی جوہری صنعت کی ترقی کا عمل نہیں روکے گا، جو ہمارے جوہری شہداء کی قربانیوں کا ثمر ہے”

دوسری جانب، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جوہری تنصیبات پر فضائی حملے کے بعد وائٹ ہاؤس سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ "ایران کے جوہری پروگرام کا خاتمہ کر دیا گیا ہے”۔

انہوں نے زور دیا کہ "اب ایران کو چاہیے کہ امن قائم کرے۔” ٹرمپ کا یہ بیان تین مرکزی جوہری مراکز فرردو، نطنز اور اصفہان پر حملے کے بعد سامنے آیا ہے۔انہوں نے متنبہ کیا کہ "اگر ایران نے کسی قسم کا انتقامی اقدام کیا، تو اس کا جواب پہلے سے کہیں زیادہ طاقت سے دیا جائے گا۔”

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے