اسحاق ڈار کا حالیہ بیان، جس میں انہوں نے کہا کہ ہر چیز کو سیاسی رنگ نہیں دینا چاہیے اور عافیہ صدیقی کے مقدمے کے حوالے سے قانونی عمل کی حمایت کی، کئی پہلوؤں سے تنقید کا مستحق ہے۔ ان کا یہ بیان کہ اگر عافیہ صدیقی کو قانون کے مطابق سزا ہوئی تو اس پر تنقید کرنا غلط ہوگا، نہ صرف عافیہ صدیقی کے مقدمے کی منصفانہ نوعیت پر سوالات اٹھاتا ہے بلکہ ان کے جواب کی غیر متعلقہ نوعیت بھی ایک الگ تنقیدی نقطہ ہے۔ اس مضمون میں ہم اسحاق ڈار کے بیان کے دو اہم پہلوؤں کا جائزہ لیں گے: عافیہ صدیقی کے مقدمے کی شفافیت پر بین الاقوامی ماہرین قانون کے تحفظات اور عمران خان کے سوال کے جواب میں عافیہ صدیقی کے کیس کا غیر متعلقہ ذکر۔
عافیہ صدیقی کے مقدمے پر بین الاقوامی تحفظات
عافیہ صدیقی کا مقدمہ، جو 2008 میں افغانستان سے گرفتاری کے بعد سے امریکی عدالتوں میں زیر بحث رہا، بین الاقوامی ماہرین قانون کے نزدیک منصفانہ عدالتی عمل کے معیارات پر پورا نہیں اترتا۔ متعدد قانونی ماہرین اور انسانی حقوق کے اداروں نے اس مقدمے میں شفافیت کی کمی، غیر قانونی حراست، اور ثبوتوں کی کمزوری پر سوالات اٹھائے ہیں۔ مثال کے طور پر، عافیہ صدیقی پر الزام تھا کہ انہوں نے امریکی فوجیوں پر حملہ کیا، لیکن اس الزام کی تائید میں پیش کیے گئے ثبوتوں کو کئی ماہرین نے غیر معتبر قرار دیا۔ ان کی گرفتاری سے قبل مبینہ طور پر خفیہ حراست میں رکھنے، غیر انسانی سلوک، اور مقدمے کے دوران ان کے وکلاء کو مناسب تیاری کے مواقع نہ ملنے کے الزامات نے اس مقدمے کی قانونی حیثیت کو متنازع بنایا ہے۔
اسحاق ڈار کا یہ بیان کہ قانونی عمل کا احترام کیا جانا چاہیے، ان بین الاقوامی تحفظات کو نظر انداز کرتا ہے۔ اگر قانونی عمل خود ہی شفافیت اور انصاف کے تقاضوں سے عاری ہو تو اسے بلا تنقید قبول کرنا غیر منطقی ہے۔ عافیہ صدیقی کے کیس میں، جہاں انصاف کے تقاضوں پر سوالات موجود ہیں، اسحاق ڈار کا بیان ایک غیر حساس اور غیر حقیقت پسندانہ موقف کو ظاہر کرتا ہے۔ قانون کی حکمرانی کا احترام ضروری ہے، لیکن جب قانون کو مبینہ طور پر سیاسی یا غیر منصفانہ مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے، تو اس پر تنقید نہ صرف جائز بلکہ ضروری ہے۔ اسحاق ڈار کا یہ کہنا کہ تنقید غلط ہوگی، ایک ایسی خاموشی کی وکالت کرتا ہے جو عافیہ صدیقی جیسے کیسز میں ممکنہ ناانصافیوں کو مزید گہرا سکتی ہے۔
غیر متعلقہ جواب: عمران خان سے عافیہ صدیقی تک
اسحاق ڈار کے بیان کا دوسرا قابل تنقید پہلو ان کا عمران خان سے متعلق سوال کے جواب میں عافیہ صدیقی کے کیس کا ذکر کرنا ہے۔ یہ غیر متعلقہ جوڑ ایک سیاسی حکمت عملی یا توجہ ہٹانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ عمران خان سے متعلق سوال، جو غالباً ان کی سیاسی سرگرمیوں یا قانونی معاملات سے متعلق تھا، کا عافیہ صدیقی کے مقدمے سے کوئی براہ راست تعلق نہیں ہے۔ عافیہ صدیقی کا کیس ایک بین الاقوامی قانونی اور انسانی حقوق کا معاملہ ہے، جبکہ عمران خان کے معاملات زیادہ تر ملکی سیاست اور قانونی چارہ جوئی سے جڑے ہیں۔ اسحاق ڈار کا اس طرح موضوع بدلنا نہ صرف سوال کے اصل جوہر کو نظر انداز کرتا ہے بلکہ ان کی طرف سے سنجیدہ مکالمے سے گریز کی نشاندہی بھی کرتا ہے۔
یہ رویہ سیاسی بیان بازی میں ایک عام حربہ ہے، جہاں حساس یا مشکل سوالات سے بچنے کے لیے غیر متعلقہ لیکن جذباتی طور پر چارجڈ موضوعات کو اٹھایا جاتا ہے۔ عافیہ صدیقی کا کیس پاکستانی عوام کے لیے ایک جذباتی معاملہ ہے، اور اس کا ذکر کر کے اسحاق ڈار نے شاید توجہ کو اصل سوال سے ہٹانے کی کوشش کی۔ یہ نہ صرف غیر پیشہ ورانہ ہے بلکہ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ سوال کا براہ راست جواب دینے سے قاصر یا غیر خواہشمند تھے۔ ایک ذمہ دار سیاسی رہنما سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ سوالات کے جوابات واضح، براہ راست اور متعلقہ انداز میں دیں، نہ کہ غیر متعلقہ موضوعات اٹھا کر بحث کو گمراہ کریں۔
نتیجہ
اسحاق ڈار کا بیان کہ ہر چیز کو سیاسی رنگ نہیں دینا چاہیے اور عافیہ صدیقی کے مقدمے پر تنقید غلط ہوگی، کئی وجوہات کی بنا پر قابل تنقید ہے۔ سب سے پہلے، یہ بیان عافیہ صدیقی کے مقدمے کی منصفانہ نوعیت پر بین الاقوامی ماہرین قانون کے جائز تحفظات کو نظرانداز کرتا ہے۔ قانونی عمل کا احترام ضروری ہے، لیکن جب وہ عمل خود متنازع ہو تو اس پر تنقید نہ کرنا ناانصافی کو برقرار رکھنے کے مترادف ہے۔ دوسری طرف، عمران خان سے متعلق سوال کے جواب میں عافیہ صدیقی کے کیس کا ذکر ایک غیر متعلقہ اور ممکنہ طور پر توجہ ہٹانے کی کوشش ہے، جو سیاسی مکالمے کی سنجیدگی کو کمزور کرتا ہے۔ اسحاق ڈار سے بطور سینئر سیاستدان توقع کی جاتی ہے کہ وہ حساس معاملات پر زیادہ محتاط اور متعلقہ انداز میں بات کریں، لیکن ان کا یہ بیان ان توقعات پر پورا نہیں اترتا۔