ہمارے اخلاقی بگاڑ کے بعد اب نوبت مزاجی بگاڑ تک آچکی ہے !

یہ جملہ آج کے معاشرے کی ایک تلخ مگر سچی تصویر ہے۔ ہم اکثر شکوہ کرتے ہیں کہ لوگ بدل گئے ہیں، لہجے سخت ہو گئے ہیں، برداشت ختم ہو گئی ہے۔ مگر کم ہی یہ سوچتے ہیں کہ اس تبدیلی کی جڑ کہاں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مزاج کی یہ خرابی اچانک پیدا … ہمارے اخلاقی بگاڑ کے بعد اب نوبت مزاجی بگاڑ تک آچکی ہے ! پڑھنا جاری رکھیں